1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی ڈرون حملے، کم از کم 48 افراد ہلاک

جنوبی اور شمالی وزیرستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے نتیجے میں اب تک مرنے والوں کی تعداد کم از کم اڑتالیس ہو چکی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔

default

اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں ایک گاڑی اور ایک گھر پر چار میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے بیرمل میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں آٹھ افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ ایک اور حملے میں میران شاہ سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر افغان سرحد کے قریب واقع گوریک نامی علاقے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا ،جس میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان نے کئی بار احتجاج بھی کیا ہے تاہم پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے بعد ان حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ان حملوں کی مخالفت کرتیں ہیں ۔ ان حملوں کو بند کروانے کے لیے دو مرتبہ منتخب اسمبلی متفقہ قرارداد بھی پاس کر چکی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کا کہنا ہے کہ” ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد کے مارے جانے سے علاقے میں دہشت گردوں کی حمایت میں اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ کو یہ ٹیکنالوجی پاکستان کو فراہم کرنی چاہیےتاکہ بے گناہ افراد اور اجتماعی نقصان کا سلسلہ بند کیا جاسکے۔‘‘

US Drone Predator Flash-Galerie

ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان نے کئی بار احتجاج بھی کیا ہے

ان کا مزید کہنا ہے، ’’ڈرون حملوں کی ہم مخالفت کرتے ہیں امریکہ کو چاہیے کہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرے اور یہ ٹیکنالوجی پاکستان کو فراہم کرے ۔پاکستانی فورسز اس قابل ہیں کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرسکیں ۔ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی فوج میں یہ صلاحیت موجود ہےلیکن اگر امریکہ خود مداخلت کرے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری خود مختاری میں مداخلت ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں“

ادھر پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان کی 80 کروڑ ڈالر کی امداد بحال نہ کی تو وہ افغان سرحد پر تعینات فوج کو واپس بلا لیں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک افغان کے 24 سو کلومیٹر طویل سرحد پر پاکستانی فوج نے گیارہ سو چیک پوسٹیں قائم کررکھی ہیں اور ہر چیک پوسٹ پر پندرہ سے بیس اہلکار تعینات ہیں۔ اسلام آباد حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج دہشت گردی کے خلاف موثر جنگ لڑرہی ہے۔

اگر عالمی تعاون نہ ہوتو پاکستان اتنی طویل اور دشوار گزار پہاڑیوں پر لمبے عرصے تک فوج رکھنا برداشت نہیں کرسکتا، جو رقم امریکہ نے روک دی وہ پہلے سے حکومت فوج پر خرچ کرچکی ہے، حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں تعینات عالمی فوج کے برابر فوج پاکستان نے سرحدوں پر تعینات کررکھی ہے۔ اگر یہ فورسز ہٹائی گئیں تو امریکی اور اتحادی افواج کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM