1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی ڈرون حملے، سترہ افغانیوں کی ہلاکت

افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم سترہ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ یہ حملے گزشتہ ایام کے دوران جنوب مشرقی افغان صوبے پکتیکا میں کیے گئے۔

رپورٹوں کے مطابق تینوں حملے گومل ضلع کے نعمت آباد علاقے میں کیے گئے۔ سترہ ہلاک شدگان میں ایک قبائلی سردار بھی شامل ہے۔ پکتیکا صوبے کی کونسل کے رکن نعمت اللہ بابری نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بدھ کے روز کیے گئے تھے۔ بابری کے مطابق ان میں سے ایک حملہ دو روز قبل جیپ نما بڑی موٹر کار پر کیا گیا اور اُس میں قبائلی سردار حاجی روز الدین اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ سوار تھے۔ اِس حملے میں حاجی روز الدین سمیت ایک درجن افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔

نعمت اللہ بابری کے مطابق مزید دو حملے بھی بدھ کے روز کیے گئے تھے اور ایک مکان کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ احاطہ حاجی روزالدین پر کیے گئے حملے کے مقام کے قریب ہی واقع ہے۔ اِس حملے میں پانچ شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام ہلاک شدگان عام شہری تھے لیکن علاقائی پولیس، کابل سکیورٹی اہلکار اور غیرملکی افواج کی جانب سے واضح کیا گیا کہ یہ تمام لوگ عسکریت پسند تھے۔

US Fallschirmjäger Afghanistan Paktika Abzug Truppen

افغانستان کے صوبے پکتیکا میں طالبان عسکریت پسندوں کو افغان فوج کے علاوہ امریکی حملوں کا بھی سامنا ہے

جنوب مشرقی صوبے پکتیکا کی صوبائی کونسل کے ایک اور رکن فضل رحمان کاتووزئی نے بھی تین ڈرون حملوں کی تصدیق کے علاوہ ہلاکتوں کا بتایا ہے لیکن انہیں صحیح تعداد معلوم نہیں تھی۔ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ہلاکتوں کے حوالے سے درست تعداد میسر نہیں کیونکہ مصدقہ اطلاعات میسر نہیں ہو سکی ہیں۔ کاتووزئی کے مطابق پکتیکا کے مختلف اضلاع کا کنٹرول صوبائی حکومت کے پاس ہے اور ضلعی حدود کے باہر عسکریت پسند سرگرم ہیں اور اِس باعث ایسی وارداتوں کی فوری تفصیلات دستیاب ہونا خاصا مشکل امر ہے۔ پکتیکا صوبے میں طالبان بھی خاصے فعال ہیں۔

دوسری جانب پکتیکا صوبے کی پولیس کے سربراہ جنرل زوار زاہد نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اِن حملوں میں کوئی شہری نہیں مارا گیا ہے اور تمام ہلاک ہونے والے عسکریت پسند تھے۔ جنرل زاہد نے قبائلی سردار حاجی روز الدین کی ہلاکت پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اسی طرح کابل میں امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس بھی کسی سویلین کے مارے جانے کی مقامی سطح سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔