1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی ڈرونز سے تعلق، برطانیہ سے ’جواب طلبی‘

ایک پاکستانی شہری کے برطانوی وکلا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ آیا وہ امریکی ڈرون حملوں میں کس طرح کی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

default

نور خان نامی اس پاکستانی شہری کے والد پاکستانی قبائلی علاقے میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ برطانوی وکیل لی ڈے اینڈ کمپنی نے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کو تحریر کردہ خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ برطانیہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں خفیہ معلومات کے ذریعے کس طرح امریکہ کی معاونت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے امریکی ڈرون حملوں کی نگرانی کرتا ہے اور ان حملوں کی حساسیت کی وجہ سے ان کا عوامی سطح پر اعتراف بھی نہیں کیا جاتا۔

Demonstration der pakistanischen Gemeinschaft in Bonn Afghanistankonferenz

پاکستان میں ایسے حملوں کے حوالے سے شدید مخالفت پائی جاتی ہے

اس خط میں خصوصی طور پر یہ بھی تحریر ہے کہ آیا برطانیہ نے رواں برس مارچ میں پاکستانی قبائلی علاقے میں ہونے والے ایک ڈرون حملے کے لیے امریکہ کو کسی طرح کی کوئی خفیہ معلومات فراہم کی تھیں، وکلا کے مطابق مارچ میں ہونے والے اس ڈرون حملے میں ان کے مؤکل نور خان کے والد کی ہلاکت ہوئی۔

خط میں میڈیا رپورٹوں کے حوالے بھی فراہم کیے گئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسیاں عسکریت پسندوں کی کسی علاقے میں موجودگی کے حوالے سے معلومات سی آئی اے کو فراہم کرتی ہیں۔

لی ڈے اینڈ کو انسانی حقوق کی ٹیم کے سربراہ رچرڈ اسٹائن نے کہا، ’ہم نے وزیرخارجہ سے معلوم کیا ہے کہ آیا ایجنٹس کے ذریعے حاصل کردہ خفیہ معلومات امریکی ڈرون حملوں کے لیے سی آئی اے کو فراہم کی جاتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یا تو وزیرخارجہ اس کی مکمل تردید کریں یا یہ کہیں کہ برطانیہ آئندہ ایسی کوئی معلومات سی آئی اے کو فراہم نہیں کرے گا۔ ’’اس سلسلے میں ہمیں واضح پالیسی بیان درکار ہے، جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ ایسے کون سے قوانین ہیں، جن کی  وجہ سے برطانیہ امریکہ کو ایسی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: ندیم گِل

DW.COM