1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی ’پین گن‘ میں بھارت کی دلچسپی

امریکی دفاعی گروپ ریتھیون نے کہا ہے کہ یہ گروپ بھارت کو وہ متنازعہ ’پین گن‘ بیچنا چاہتا ہے، جومظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہےکہ یہ ’پین گن‘ ربڑ کی گولیوں کے مقابلے میں محفوظ ہے۔

default

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بنائی گئی یہ گن آنسو گیس کے گولوں اور ’واٹرکینن‘ کی طرز پر کام کرتی ہے۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے استعمال سے انتہائی کم جسمانی نقصان کا امکان ہوتا ہے۔

اس Pain Gun سے ایسی طاقتور شعاعیں پیدا ہوتی ہیں، جو انسانی اعصاب کے آخری حصوں کو بہت فعال بنا کر درد کے شدید احساس کا باعث بنتی ہیں۔ یہ گن ایک ایسے بڑے ٹیلی وژن کے سائز جتنے ٹرانسمٹر سے جڑی ہوتی ہے، جسے ایک عام پولیس وین پر نصب کیا جا سکتا ہے یا کسی بھی دوسری بڑی گاڑی پر رکھا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام نے یہی گن گزشتہ برس افغانستان میں اس وقت استعمال کرنا بند کر دی تھی، جب انسانی حقوق کے اداروں نے اس سے جڑے نقصانات پر اعتراضات کیے تھے۔ تاہم امریکی حکام نے اس کا استعمال ترک کرنے کی کوئی وجوہات نہیں بتائی تھیں۔

Indien Kaschmir Demonstranten in Srinagar Flash-Galerie

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ برس پر تشدد ہنگاموں کے نتیجے میں 114 افراد ہلاک ہو گئے تھے

Raytheon نامی امریکی دفاعی گروپ سے وابستہ ایک اعلیٰ اہلکار جارج سویٹاک نے خبر رساں ادارے AFP سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم بھارتی حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں، کچھ لوگ اس ’پین گن‘ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بیان بنگلور میں منعقد ہو رہے ایک ایئر شو کے موقع پر دیا۔

جارج سویٹاک کے مطابق یہ نئی ’پین گن‘ یا Ray Gun ان دیگر طریقوں کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے، جو بھارتی حکام مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے اب تک استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ برس بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھڑکنے والے مظاہروں کے نتیجے ایک سو چودہ افراد کی ہلاکت کے بعد اب بھارتی حکام کی کوشش ہے کہ وہ مشتعل مظاہرین کو قابو میں کرنے کے لیے کم سے کم نقصان دہ لیکن زیادہ مؤثر طریقہ ڈھونڈے۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے حال ہی میں ریاستی پولیس سے کہا تھا کہ وہ مشتعل مظاہرین کو کنٹرول میں کرنے کے لیے مناسب طریقے استعمال میں لائے۔ اس بارے میں وزیر اعظم سنگھ نے کہا تھا، ’’مجمع کو قابو میں کرنے کے لیے ہمیں اپنی حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو اور مشتعل مظاہرین بھی قابو میں آ جائیں۔‘‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM