1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی پالیسیاں مبہم ہیں، فرانسیسی وزیر خارجہ

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے اسلامک اسٹیٹ سے متعلق امریکی پالیسیوں اور شامی بحران کے حل کے حوالے سے اقدامات پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں امریکی پالیسیوں کو مبہم قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف امریکی عزائم پر نکتہ چینی کی ہے۔ فابیوس کے مطابق، ’’اس بارے میں صرف امریکی ہی نہیں بلکہ اتحادیوں کی پالیسیاں بھی غیر واضح ہیں۔ میں وہ دہرانا نہیں چاہتا جو میں اس اتحاد کے اہداف کے بارے میں پہلے کہہ چکا ہوں۔‘‘ اس بیان میں ان کا اشارہ امریکا کی جانب تھا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے مزید کہا، ’’تاہم ہمیں یہ احساس بھی ہے کہ اس تناظر میں پختہ عزائم کی بھی کمی ہے۔‘‘

دوسری جانب فابیوس نے بدھ کے روز اپنے ایک الگ بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ پیرس حکومت سے الگ ہو تے ہوئے منصبِ وزارت سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ ایسی خبریں ہیں کہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ جلد ہی کابینہ میں وسیع ردو بدل کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فابیوس کے مطابق اگلے مہینوں کے دوران امریکی صدر باراک اوباما کی آئی ایس سے متعلق پالیسیوں میں کوئی تبدیلی آنے کی امید نہیں ہے۔ ’’یہاں پر بیانات ہیں لیکن عملی اقدامات اس سے مختلف ہیں اور یقینی طور پر روسی اور ایرانی اس کمٹ منٹ کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ شامی تنازعے کے حوالے سے سبکدوش ہونے والے فابیوس نے کہا،’’ اگر آپ شامی صدر بشارالاسد کی بربریت، روس اور ایران کی سازش کے علاوہ اس مبہم صورتحال کا جائزہ لیں تو آپ حلب میں رونما ہونے والے المیے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘‘

اس ہفتے جرمن شہر میونخ میں بین الاقوامی سطح پر شام کی امداد کے لیے قائم گروپ کا ایک اجلاس بھی ہو رہا ہے۔ اس اجلاس سے قبل ہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس تنازعے کے سفارتی حل کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ کیری فائر بندی کی تجویز دینے کے ساتھ ساتھ چاہتے ہیں کہ محصور علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔