1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی وزیر دفاع کا دورہ یورپ

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس منگل سے یورپ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ دورے میں وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں، افغانستان میں اتحادی افواج کے کردار اور وہاں کی تازہ صورتحال پرنیٹو ملکوں کے وزرائے دفاع سے بات چیت کریں گے۔

default

امریکی وزیر دفاع روبرٹ گیٹس

امریکی وزیر دفاع کے دورہ یورپ کا مقصد اوباما انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان کے خلاف واشنگٹن کی نئی جنگی پالیسی سے متعلق نیٹو اتحادیوں کی رضامندی حاصل کرنا اور جنوبی افغانستان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔

پینٹاگون کے ایک ترجمان کے مطابق رابرٹ گیٹس بدھ کے روز ماسٹرشٹ میں نیٹو کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے، جبکہ وہ اتحادی ملکوں کے وزرائے دفاع سے جمعرات کے روز برسلز میں مذاکرات کریں گے۔ برسلز منعقدہ ملاقات میں زیادہ تر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیٹو دستوں کے کردار سے متعلق صدر اوباما کی نئی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس سال کے اختتام تک افغانستان میں تعنیات امریکی افواج کی تعداد 21 ہزار اضافی دستوں کے ساتھ تقریبا 68 ہزار ہو جائے گی۔ اس پس منظر میں افغانستان میں موجود 33 ہزار غیر امریکی اتحادی فوجیوں کی امریکی دستوں کے مقابلے میں اہمیت کچھ کم ہوجائے گی، اس وجہ سے بھی کہ طالبان کے خلاف مصروف عمل غیرملکی فوجی دستوں کا مکمل کنڑول 2010 سے 2012 تک امریکی افواج کے ہاتھ میں رہے گا۔

Obama zu Afghanistan

گیٹس کے دورہ یورپ کا مقصد اوباما انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں واشنگٹن کی نئی جنگی پالیسی سے متعلق نیٹو اتحادیوں کی رضامندی حاصل کرنا ہے

نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاپ دے ہوپ شیفر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے یورپی اتحادی ممالک پر واضح کردیا ہے کہ اگر وہ اس جنگ میں برابری کی سطح پر اپنی افواج فراہم نہیں کرتے تو وہ افغانستان میں امریکہ کے تیزی سے پھیلتے ہوئے فوجی کردار پر تنقید بھی نہ کریں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے امریکی صدر باراک اوباما نے حالیہ دنوں میں افغانستان میں امریکی افواج کے نئے سربراہ کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا جو طالبان کے خلاف جاری مسلح جنگ کو زیادہ نتیجہ خیز بنانے کا ارادہ تو رکھتے ہیں، مگر احتیاط پسندی کے قائل بھی ہیں: ’’یہ جنگ امریکہ اور اتحادی فوجیں دراصل افغانستان میں وہاں کے شہریوں کے لئے لڑ رہی ہیں۔ مگر ہمیں ایسی جنگی حکمت عملی اپنانا ہو گی جس کی بدولت شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یہی طرز عمل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الااقوامی سطح پر ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانے سے بچا سکتا ہے۔‘‘

افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی فضائی حملوں میں گذشتہ کئی مہینوں کے دوران کافی زیادہ شہری ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن کے نتیجے میں امریکی انتظامیہ پرکرزئی حکومت اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے کافی سخت تنقید بھی کی تھی۔

رپورٹ انعام حسن

ادارت مقبول ملک