1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی وزیر دفاع سعودی عرب میں

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جس کا مقصد ریاض اور واشنگٹن کے اتحاد کو تقویت دینا ہے۔ دونوں ممالک ایران کو خطے میں عدم استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کا اتحاد کئی دہائیوں سے قائم ہے۔ سعودی عرب امریکا کو تیل فراہم کرتا ہے تو امریکا اس کے بدلے سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بناتا ہے۔ تاہم ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں بتدریج تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ سعودی حکمرانوں کا خیال تھا کہ امریکا شامی تنازعے میں براہ راست شمولیت سے گھبرا رہا ہے اور اس کا جھکاؤ خطے میں سعودی عرب کے حریف ملک ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق سنی اکثریت رکھنے والا ملک سعودی عرب ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ تہران حکومت کی بات چیت کے عمل کے دوران خود کو ’’حاشیے سے لگا محسوس کرتا تھا‘‘۔ جولائی 2015ء میں اوباما انتظامیہ کی طرف سے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ ہوا جبکہ اس کے بدلے میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

Großbritannien US-Verteidigungsminister Jim Mattis in London

جیمز میٹس منگل 18 اپریل کی سہ پہر کو ریاض پہنچے

جیمز میٹس منگل 18 اپریل کی سہ پہر کو ریاض پہنچے۔ حکام کے مطابق میٹس کے اس دورے کا مقصد سعودی رہنماؤں سے ملاقات کر کے ان کی ترجیحات کے بارے میں جاننا اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل جیمز میٹس نے سعودی شاہ سلمان، ولی عہد محمد بِن نائف اور شاہ سلمان کے بیٹے اور نائب ولی عہد محمد بِن سلمان سے ملاقاتیں کیں۔ محمد بِن سلمان سعودی عرب کے وزیر دفاع ہیں اور انہوں نے گزشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی۔

Tadamitsu Kishimoto Der König-Faisal-Preis Foundation Daniel Loss König Salman bin Abdulaziz (König-Faisal-Preis Foundation )

جنرل جیمز میٹس نے سعودی شاہ سلمان کے علاوہ ولی عہد محمد بِن نائف اورنائب ولی عہد محمد بِن سلمان سے ملاقاتیں کیں

سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن میں ایران نواز حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جنگی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل جیمز میٹس نے کہا تھا کہ یمن کے تنازعے کے سیاسی حل کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی مذاکرات کرائے جائیں۔ یمن میں جنگ بندی کے لیے ابھی تک سات ناکام معاہدے ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس سعودی عرب کے بعد مصر، اسرائیل، قطر اور جبوتی بھی جائیں گے۔ ان کے یہ کئی ملکی دورہ ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔