1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی وزیر خارجہ کلنٹن میانمار کے تاریخی دورے پر

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن میانمار کا تاریخی دورہ آج سے شروع کر رہی ہیں۔ گزشتہ نصف صدی میں کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا میانمار کے لیے یہ پہلا دورہ ہے، جو برما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

جنوبی کوریا میں ایک امدادی کانفرنس میں شرکت کے بعد امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن میانمار کے لیے روانہ ہوئیں۔ وہاں وہ جمعرات کو صدر Thein Sein سے ملاقات کریں گی۔ بعدازاں وہ ینگون میں جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کریں گی۔

ہلیری کلنٹن نے جنوبی کوریا سے میانمار روانگی سے قبل کہا کہ امریکہ اور دیگر ملکوں کو میانمار میں تبدیلی کی اُمید ہے، جس سے وہاں کے عوام استفادہ کر سکیں گے۔

وزیر خارجہ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کے جاری عمل کے حوالے سے میانمار کے حکمرانوں کے ارادے کیا ہیں، وہ خود اس کا تعین کرنا چاہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ میانمار کی حکومت سے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا کہیں گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان قیدیوں کی تعداد پانچ سو سے سولہ سو کے درمیان ہو سکتی ہے۔

کلنٹن نے یہ بھی کہا کہ وہ میانمار میں طویل عرصے سے جاری نسلی تنازعات کے

Aung San Suu Kyi fordert Meinungsfreiheit in Myanmar

میانمار کی جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی

حل پر بھی زور دیں گی، جن کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس دورے کے موقع پر ہلیری کلنٹن میانمار پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا اعلان نہیں کریں گی،گو کہ اس مقصد کے لیے کانگریس کی منظوری بھی ضروری ہے۔

یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ عام طور پر اعلیٰ امریکی حکام کسی طرح کی مراعات کے لیے تیار ہوئے بغیر ایسے دوروں پر کم ہی جاتے ہیں۔

گزشتہ برس میانمار نے اپنے ہاں اصلاحات کا عمل شروع کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ اس حوالے سے جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی کی نظر بندی سے رہائی اور کسی حد تک دہائیوں سے چلے آ رہے عسکری اقتدار کا خاتمہ اہم تھا۔

رواں ماہ دورہء ایشیا کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے ہلیری کلنٹن کے اس دورے کا اعلان کیا تھ، تاہم ان کی انتظامیہ اس حوالے سے زیادہ توقعات رکھتی دکھائی نہیں دے رہی۔

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس