1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان میں انتہائی ’ٹھنڈا استقبال‘

امریکی وزیر خارجہ راولپنڈی کے ایئر پورٹ پر اترے تو وہاں کوئی بھی اعلیٰ حکومتی شخصیت ان کے استقبال کے لیے موجود نہیں تھی۔ ان سے ہاتھ ملانے کے لیے وہاں صرف درمیانے درجے کا ایک افسر بھیجا گیا تھا۔

ماضی کے برعکس بدھ کے روز  پاکستان میں امریکی وزیر جارجہ ریکس ٹلرسن کا ’انتہائی بے رخی‘ سے استقبال کیا گیا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس مرتبہ پاکستان نے معمول کی رسوم بھی ادا نہیں کی ہیں جبکہ ٹلرسن کے استقبال کے لیے وزارت خارجہ نے اپنے ایک درمیانے درجے کے عہدیدار کو وہاں بھیج رکھا تھا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان میں قیام بھی صرف چار گھنٹے تک محدود رہا، جس کے بعد وہ پاکستان کے روایتی حریف ہمسایہ ملک بھارت روانہ ہو گئے۔ پاکستان میں گزارے جانے والے چار گھنٹوں میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ملکی فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کی۔

پاکستان حکومت اس وقت امریکی انتظامیہ سے سخت ناخوش ہے۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں، جو انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ’دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں‘ سے متعلق زیادہ دیر تک خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان طالبان کی مبینہ حمایت کی وجہ سے پاکستان کی امریکی اتحادی کے طور پر امتیازی حیثیت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب میڈیا کے سامنے پاکستانی وزیر اعظم نے محتاط رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے ساتھ ملاقات میں ’دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ‘ میں اسلام آباد حکومت کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عباسی نے اسلام آباد میں ٹلرسن سے ملاقات میں کہا کہ علاقائی اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف کارورائی میں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔