1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی وزیردفاع اچانک دورے پر افغانستان میں

امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر ایک غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچ گئے۔ جمعے کے روز اس اچانک دورے میں وہ افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

اگلے ماہ امریکی وزیردفاع کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے والے ایش کارٹر کا ممکنہ طور پر یہ افغانستان کا آخری دورہ ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ماہ اپنا عہدہ سنبھال لیں گے اور انہوں نے وزارت دفاع کا قلم دان ریٹائرڈ جنرل جیمز ماٹِس کے سپرد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے دورہ افغانستان میں آج شام کارٹر صدر اشرف غنی سے بھی ملیں گے۔

افغانستان میں اس وقت قریب دس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جو افغان فوجیوں کی تربیت اور مشاورت کا کام کر ہے ہیں، تاہم بعض اہم اور مشکل عسکری مہمات میں بھی افغان فورسز امریکی فوجیوں سے مدد لے سکتی ہیں۔

US-Verteidigungsminister Carter mit afghanischem Präsidenten Ghani (Jonathan Ernst/Getty Images)

ایش کارٹر آج صدر اشرف غنی سے ملاقات کریں گے

کارٹر یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں، جب ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ افغان فورسز ماضی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ افغان صدر کہہ چکے ہیں کہ طالبان پاکستانی سرزمین کا استعمال کر کے افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔

امریکی اندازوں کے مطابق افغان حکومت ملک کے قریب دو تہائی علاقے پر کنٹرول کی حامل ہے، جب کہ طالبان دس فیصد پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، جب کہ باقی علاقے فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی زد میں ہیں۔

امریکی فوج کی جانب سے تاہم مختلف کارروائیوں میں افغان فورسز کی ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے، تاہم یہ بات اہم ہے کہ ماضی کے مقابلے میں افغان فورسز کو زیادہ جانی نقصان کا بھی سامنا ہے۔

افغانستان پہنچنے سے قبل امریکی وزیر دفاع کے پریس سیکرٹری پیٹر کُک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کارٹر افغانستان میں جاری فوجی کارروائیوں کی پوری تفصیلات چاہتے ہیں: ’’اپنے اس دورے میں وزیردفاع افغان حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں حالیہ مہنیوں میں افغان فورسز کی جانب سے زیادہ بہتر کارکردگی کے مظاہرے پر بات چیت کی جائے گی۔‘‘

کُک نے مزید کہا، ’’کارٹر افغان فورسز بشمول ایوی ایشن، تربیت کے سلسلے کو جاری رکھنے کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔