1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی وزیرخارجہ کا دورہ جرمنی

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے کئی روزہ اور کئی ملکی دورہ مشرق وسطیٰ کے بعدبدھ کی شام جرمن دارلحکومت برلن پہنچ گئیں۔ جرمنی موجودہ ششماہی کے دوران یورپی یونین کا صدر ملک بھی ہے اور مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کے جلد حل کئے جانے کا حامی بھی ۔

default

امریکی وزیر خارجہ جرمن رہنماوں سے اپنی ملاقاتوں میں انہیں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تنازعے کی تازہ ترین صورت حال اور اپنے دورے کے نتائج سے آگاہ کریں گی۔ اپنی برلن آمد کے کچھ دیر بعد کونڈولیزا رائس اپنے جرمن ہم منصب فرانک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کر نے والی تھیں جبکہ جرمن چانسلر آنگیلا میرکل سے ان کی ملاقات کل جمعرات کے روز ہو گی۔

امریکی وزیر جرمنی میں اپنے مذاکرات کے دوران مشرق وسطیٰ کے خطے کی مجموعی صورت حال پر اس تناظر میں بھی تفصیلی تبادلہ خیال کریں گی کہ گذشتہ جمعے کو شروع ہو کر بدھ کے دن تک جاری رہنے والے اپنے دورے کے دوران وہ کئی عرب ملکوں میں گئیں اور بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی ایک تین روزہ سربراہی کانفرنس کا اہتمام بھی کرے گا۔

مشرق وسطیٰ اور چار کے گروپ کی کوششیں

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان Martin Jaeger کے مطابق رائس کی بات چیت میں یہ پہلو بھی اہم ہو گا کہ اب امریکہ، یورپی ملکوں، خاص کر یورپی یونین کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو مزید آگے کیسے بڑھا سکتا ہے۔ وفاقی جرمن چانسلر میرکل نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی صدر بش کے ساتھ مذاکرات میں اس امر پر زور دیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین حتمی قیام امن کے لیئے اقوام متحدہ، یورپی یونین، روس اور امریکہ پر مشتمل چارکے گروپ کو اپنی ثالثی کوششیں بھر پور طریقے سے بحال کرنا چاہیئں۔

برلن میں کونڈولیزا رائس کی وفاقی چانسلر اور وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقاتوں میں عراق کی تازہ صورت حال پراور وہاں مزید امریکی فوجی بھیجنے کے صدر بش کے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ برلن میں اپنے قیام کے بعد امریکی وزیر لندن جائیں گی جہاں وہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملیں گی۔