1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی نائب صدر کا دورہء چین: بیجنگ پر کرنسی کی قدر بڑھانے کے لیے دباؤ

امریکی نائب صدر جو بائیڈن رواں ہفتے اپنے دورہء چین میں ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید اضافے کے لیے اعلٰی چینی حکام پر زور دیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔

default

چینی کرنسی یوآن

وہ چین کے علاوہ منگولیا اور جاپان بھی جائیں گے۔ بدھ کو شروع ہونے والے اپنے دورہء چین میں وہ حکام کو ان اقدامات سے آگاہ کریں گے جو امریکی حکومت اپنے بجٹ خسارے میں کمی کے لیے اٹھا رہی ہے۔ جو بائیڈن کانگریس میں امریکی ریاستی قرضوں کی حد بڑھانے اور حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق مذاکرات میں پیش پیش رہے تھے۔ چونکہ چین نے امریکی حکومتی بانڈز میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے لہٰذا اسے امریکی قرض کے بحران پر تشویش لاحق ہے۔

Joe Biden

امریکی نائب صدر جو بائیڈن اپنے دورہ چین کے دوران دیگر موضوعات کے علاوہ چین پر کرنسی کی قدر بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے

امریکی نائب وزیر خزانہ برائے بین الاقوامی امور لائل برینرڈ نے امریکی نائب صدر کے دورہء چین کے حوالے سے صحافیوں کو بتایا کہ چینی کرنسی کی قدر میں اضافہ امریکی برآمدات اور ملازمتوں کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

چینی کرنسی کی قدر میں اضافے کی ضرورت

چین کے مرکزی بینک، پیپلز بینک آف چائنہ، نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ کرنسی کی شرح تبادلہ کو نسبتاﹰ مستحکم رکھے گا۔ تاہم اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے بیجنگ کی جانب سے کرنسی کی قدر میں تیزی سے اضافہ کیا جائے گا۔

اپنی سہ ماہی رپورٹ میں پیپلز بینک نے کہا کہ وہ شرح سود، شرح تبادلہ اور بینک میں ریزرو رقم کی شرائط کے ذریعے مختلف طریقوں سے افراط زر پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر ے گا۔

چین کے حکومت نواز مختلف مقامی اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ امریکی ڈالر کی قدر کمزور ہونے کے ساتھ مرکزی بینک درآمدی افراط زر پر قابو پانے کے لیے اپنی مضبوط کرنسی پر انحصار کرے گا۔

گزشتہ ہفتے مسلسل اضافے کے بعد ایک ڈالر کے مقابلے میں ایک یوآن کی قدر6.39 تک پہنچ گئی۔ جون 2010 میں امریکی ڈالر سے تعلق توڑنے کے بعد سے اس کی قدر میں تقریباﹰ 6.7 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

China Textilindustrie Näherinnen Flash-Galerie

چین پر اکثر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت کے لیے اپنی کرنسی کی قدر کو جان بوجھ کر کم رکھا ہوا ہے

بیجنگ پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، امریکہ اور دیگر اداروں کی جانب سے کرنسی کی قدر میں تیزی سے اضافے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ چین پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے اپنی کرنسی کی قدر کو جان بوجھ کر کم رکھا ہے تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں اس کا برآمدی شعبہ زیادہ مسابقت کر سکے۔ تاہم حالیہ دنوں میں تین وجوہات کی بناء پر قدر میں اضافہ کرنا ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ رواں سال جولائی میں افراط زر میں غیر متوقع طور پر 6.5 فی صد اضافہ ہوا۔ مضبوط کرنسی درآمدی افراط زر کے دباؤ کو برداشت کر سکتی ہے۔

باقی دو امریکہ کی قرض کی ادائیگی پر اعتماد کی شرح کو دھچکا اور یورپ میں قرض کا حالیہ بحران ہیں۔ چینی اخبارات میں بھی حالیہ دنوں میں شائع ہونے والے بہت سے اداریوں اور خبروں میں چینی کرنسی کی قدر میں اضافے کے حق میں بحث کی گئی ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM