1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی نائب صدارتی امیدوار: ’غیر معروف شخصیات‘ کا مباحثہ

امریکی الیکشن میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے نائب صدارتی امیدواروں ٹم کین اور مائیک پینس کے مابین ٹیلی وژن مباحثہ ’غیرمعروف‘ شخصیات کی جنگ ثابت ہوا، جس میں زیادہ تر ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات کی گئی۔

USA Pence trifft auf Kaine - Vizekandidaten liefern sich erstes TV-Duell (Reuters/J. Ernst)

ریپبلکن نائب صدارتی امیدوار مائیک پینس، دائیں، ڈیموکریٹ حریف ٹم کین کے ساتھ بحث کرتے ہوئے

نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن ہیں، جو سابقہ خاتون اول اور سابق وزیر خارجہ بھی ہیں، جن کا مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو گا۔

ہلیری کلنٹن نے نائب صدارتی عہدے کے لیے اپنی پارٹی کے ٹم کین (Tim Kaine) کو اپنا انتخابی ہم سفر منتخب کیا ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیک پینس (Mike Pence) کو اپنا نائب صدارتی امیدوار بنایا ہے۔ 58 سالہ ٹم کین امریکی سینیٹ کے رکن ہیں اور ان کا تعلق ریاست ورجینیا سے ہے۔ ان کے برعکس 57 سالہ ریپبلکن مائیک پینس امریکی ریاست انڈیانا کے گورنر ہیں۔

ان دونوں سیاستدانوں کین اور پینس کے مابین امریکا میں مقامی وقت کے مطابق منگل چار اکتوبر کی رات ٹیلی وژن پر ہونے والے ایک مباحثے میں ناظرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے دیکھا کہ یہ مباحثہ دراصل دو ’غیر معروف شخصیات‘ کی زبانی جنگ ثابت ہوا، جس میں ٹم کین نے زیادہ تر ہلیری کلنٹن اور مائیک پینس نے زیادہ تر ڈونلڈ ٹرمپ کا دفاع کیا۔

اس مباحثے کے بعد امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا کہ نائب صدارتی امیدواروں کے مابین اس واحد نشریاتی مباحثے میں ریپبلکن سیاستدان مائیک پینس بظاہر ڈیموکریٹ امیدوار ٹم کین پر حاوی رہے اور ان کی گفتگو زیادہ مدلل تھی۔

USA Pence trifft auf Kaine - Vizekandidaten liefern sich erstes TV-Duell (Reuters/K. Lamarque )

گورنر مائیک پینس اور سینیٹر ٹم کین، بائیں، کے درمیان بس ایک ہی ٹی وی مباحثہ ہونا تھا

دوسری طرف کئی تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ اس مباحثے پر دو ایسی شخصیات چھائی رہیں، جو اس میں شریک ہی نہیں تھیں، یعنی ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس مباحثے کے بعد فوری طور ہر مکمل کیے گئے ایک عوامی جائزے کے جو نتائج جاری کیے، ان کے مطابق اس سے قطع نظر کہ کون سی شخصیت کس سیاسی پارٹی کی نائب صدارتی امیدوار ہے، ریپبلکن مائیک پینس اپنے دلائل میں مقابلتاﹰ زیادہ قائل کر دینے والے لہجے کے حامل رہے جبکہ ان کے ڈیموکریٹ حریف ٹم کین مباحثے کے دوران کسی کسی وقت کافی بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئے۔

سی این این کے مطابق امریکی شہریوں اور ٹیلی وژن ناظرین میں سے 48 فیصد کی رائے میں یہ مباحثہ ریپبلکن امیدوار مائیک پینس نے جیتا جبکہ 42 نے یہ کہا کہ اس لائیو بحث کے فاتح ڈیموکریٹ سیاستدان ٹم کین رہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے واشنگٹن سے اس بارے میں اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ یہ نشریاتی مباحثہ  ایک ایسی لفظی جنگ ثابت ہوا، جس میں کئی مرتبہ ایک دوسرے کی بات کاٹی گئی، گفتگو میں تعطل بھی دیکھا گیا اور دونوں شرکاء نے ہی مخالف سیاسی جماعت کے صدارتی امیدوار پر زبانی حملے بھی کیے۔

USA Wahlkampf TV Duell (Reuters)

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین دو ٹی وی مباحثے ابھی ہونا ہیں

ایک موقع پر ڈیموکریٹ ٹم کین نے اپنے حریف مائیک پینس کے ’باس‘ اور ریپبلکن صدارتی امیدوار ٹرمپ کو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں ریگن نے ایک بار کہا تھا کہ کوئی بھی ’مخبوط اور کم عقل‘ انسان، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ’’میرے خیال میں گورنر مائیک پینس کے باس بھی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔‘‘

اس پر مائیک پینس نے سینیٹر ٹم کین پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’ سینیٹر کین، آپ نے جو بات کہی ہے، وہ خود آپ کی اور ہلیری کلنٹن کی اپنی گفتگو کے معیار سے بھی نیچے کی بات ہے، بہت زیادہ گرے ہوئے معیار کا مظہر موقف۔‘‘

نائب صدارتی امیدواروں کے مابین یہی ایک مباحثہ ہونا تھا جبکہ اس کے برعکس دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین مجموعی طور پر تین ٹیلی وژن مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں سے ایک ہو چکا ہے اور باقی دو آئندہ دنوں میں ہوں گے۔

DW.COM