1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

امریکی میکسیکن سرحد پر بچھڑے خان دانوں کا تین منٹ کا مختصر ملاپ

پچھلے بیس سال سے لاؤرا اویلا اپنی ماں کو بانہوں میں لینے کو بے تاب رہیں۔ ہفتے کے روز ان کی یہ خواہش پوری ہو گئی، مگر صرف اور صرف تین منٹ کے لیے۔

اویلا پچھلی دو دہائیوں سے اپنے اہل خانہ کو دیکھنے اور انہیں اپنی بانہوں میں بھر لینے کو بے تاب رہیں۔ 15 برس کی عمر میں اپنی والدہ سے الگ ہونے والی اویلا اب 35 برس کی ہیں۔ ہفتے کے روز انہیں یہ موقع ملا کو وہ اپنی والدہ کو گلے لگا سکیں، مگر یہ موقع صرف تین منٹ کے دورانیے پر مبنی تھا۔

ہفتے کی دوپہر بارہ بج کر ستائیں منٹ پر وہ بھاری قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی امریکا اور میکسکیو کی سرحد پر واقع اس آہنی دروازے پر پہنچییں جو سیان ڈیاگو کی سرحد پر نصب ہے۔ امریکی بارڈر فورسز نے یہ دروازہ کچھ دیگر کے لیے کھولا تھا، اور اسی دوان اویلا نے اپنی ماں سے مختصر مگر انتہائی جذبات ملاقات کی۔

اویلا اور ان کی گیارہ سالہ بیٹی ان چھ خان دانوں میں شامل تھیں، جنہیں ایک مہاجرین دوست گروپ نے امریکی حکام کے تعاون کے ساتھ اقوام متحدہ کے بچوں کے دن کے موقع پر اپنے خاندان سے ملاقات کے لیے منتخب کیا تھا۔ اتوار کے روز اقوام متحدہ کا یوم اطفال تھا۔

Symbolbild Migrantenkinder an der Grenze zwischen Mexiko un den USA (Imago)

اس طرح چھ خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے مل پائے

ایک ایک کر کے ان خاندانوں کو ایک آہنی دروازہ، جو سان ڈیاگو کے قریبی علاقے سان سیڈرو کو میکسیکو کے علاقے تیجوانا سے الگ کرتا ہے، کھولنے اور اپنے پیاروں سے مل لینے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران سرحدی محافظوں کی سخت نگرانی کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس دونوں ان چنیدہ خاندانوں کے افراد کو انتہائی مختصر وقت کی اس ملاقات میں دوسری جانب موجود اپنے اہل خانہ سے گلے لگنے اور انہیں چوم لینے کا موقع فراہم کیا گیا۔

لاس اینجلس کی رہائشی اویلا نے اس جذباتی ملاقات کے بعد کہا، ’’میں نے جب اپنی والدہ کو آخری مرتبہ دیکھا تھا، تو وہ 50 برس کی تھیں اب اگلے ہفتے وہ 71 برس کی ہو جائیں گی۔ میرے اور میری بیٹی کے لیے یہ کرسمس سے پہلے کا تحفہ تھا، جب کے میری والدہ کے لیے ان کی سال گرہ کا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس تین منٹ دورانیے کی ملاقات کے لیے میری والدہ کو پیوبلا سے چار گھنٹے کی پرواز لینا پڑی، مگر وہ ہمیں دیکھنے کے لیے اس قدر بے تاب تھیں کہ انہیں اس پر کوئی شکایت نہ تھی۔‘‘