1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی میزائل شکن نظام کی تنصیب، روس اور چین کی تشویش

شمالی کوریائی ہتھیارسازی کے تناظر میں امریکا جنوبی کوریا میں میزائل شکن نظام نصب کرے گا۔ اِس جدید نظام کی تنصیب پر روس اور چین نے مشترکہ طور پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔

default

ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم یا تھاڈ (THAAD)

روس اور چین کے وزرائے خارجہ نے جنوبی کوریا میں امریکی اینٹی میزائل نظام کی ممکنہ تنصیب پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مطابق بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں امریکا شامل نہیں ہے اور باہر سے آکر اُسے اِس انداز میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آج جمعے کے روز چینی دارالحکومت میں یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کے فوجی اقدامات کے تناظر میں انتہائی جدید تھاڈ میزائل سسٹم کی تنصیب کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ شمالی کوریا نے بھی امریکی میزائل سسٹم کی تنصیب کو غیر ضروری اور خطے میں سکیورٹی توازن کو مزید خراب کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا کی مبینہ جوہری سرگرمیاں اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کی مذمت عالمی سطح پر کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کمیونسٹ شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیوں کا نفاد بھی کر دیا ہے۔ اِس تناظر میں روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ پیونگ یانگ کے عسکری تجربات کا بہانہ بنا کر جزیرہ نما کوریا کے قریبی علاقے میں سکیورٹی سرگرمیوں کو بڑھانا جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اِس سے خطے کی چپقلش میں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔

China Inseln Süd China Meer

بحیرہ جنوبی چین کے تقریباً سارے علاقے پر چین حقِ ملکیت جتاتا ہے

امریکا نے جنوبی کوریا میں ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم یا تھاڈ (THAAD) کو نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔روس اور چین کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر کہا کہ تھاڈ اینٹی میزائل نظام کی تنصیب سے جزیروہ نما کوریا میں پیدا بحران اور تنازعہ کسی پرامن حل کی جانب نہیں بڑھے گا۔ چین کے وزیر خارجہ نے اِس موقع پر کہا کہ امریکی میزائل کی تنصیب سے روس اور چین کی سکیورٹی براہ راست متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔

بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے پر فلپائن نے اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت میں سمندری حدود کے معاملے ایک اپیل دائر کی ہے۔ بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے پر چین نے لاؤس، برونائی اور کمبوڈیا کے ساتھ اپنے مفاہمتی عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ اس مناسبت سے ان تینوں ملکوں نے واضح کیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین تنازعے کو آسیان تنظیم کے فورم پر زیرِ بحث نہ لایا جائے۔ اِس سمندر پر چین کی حاکمیت کو برونائی، ملائیشیا اور ویتنام نے چیلنج کر رکھا ہے۔ دوسری جانب بحیرہ جنوبی چین کے تقریباً سارے علاقے پر چین اپنی حاکمیت جتاتا ہے اور اُس نے ثالثی عدالت کی کارروائی کا حصہ بننے اور اِس کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔