1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی مندوب کو سوچی سے ملنے کی اجازت مل گئی

میانمار کی حکمران جنتا پارٹی نے ایک امریکی مندوب کواپوزیشن کی نظر بند رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

default

فوجی حکومت کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ آئندہ ہفتے میانمار کا دورہ کرنے والے خصوصی امریکی مندوب کرت کیمپبل سوچی سے ملاقات کریں گے۔ مشرقی ایشیا اور پیسفیک امور کے نائب امریکی سیکریٹری کیمپبل اتوار کو میانمار کے دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔

ایک حکومتی اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پراے ایف پی کوبتایا ہے کہ وہ دارالحکومت میں مختصر قیام کے دوران وزیراطلاعاتKyaw Hsan اور دیگر فوجی افسران سے ملاقات کے بعد اگلے ہی دن ینگون روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ سوچی سے ملاقات کریں گے۔

میانمار میں جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والی چونسٹھ سالہ سوچی گزشتہ بیس سالوں کے دوران چودہ سال تک قید کی زندگی گزار چکی ہیں۔

کیمپبل نے گزشتہ سال نومبر میں بھی اپنے دورہ ء میانمار کے دوران سوچی سے ملاقات کی تھی۔ امریکی صدر باراک اومابا کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ نے میانمار کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے وہاں کی فوجی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ کیمپبل کا دورہ میانمار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

قبل ازیں میانمار حکام نے بتایا تھا کہ کیمپبل وزیر اعظم Thein Sein سے بھی ملاقات کریں گے تاہم بعد ازاں اس بیان کی تردید کر دی گئی۔

Bürgerkrieg in Birma General Thein Sein

میانمار کےوزیر اعظم Thein Sein

جمعہ کوامریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ امریکی مندوب اسی صورت میں میانمار کا دورہ کریں گے اگرانہیں وہاں سوچی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت دی جائےگی۔

میانمار کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے امریکی مندوب کے دورے سے کافی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ برائے جمہوریت کے نائب صدر ٹن اُو نے کہا ہے کہ وہ امریکی مندوب سے اپیل کریں گے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ فوجی حکومت جمہوریت کی بحالی کے لئے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات شروع کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کیمپبل سے اپنی ملاقات کے دوران اس بات پر بھی زور دیں گے کہ سوچی سمیت دیگرسیاسی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات کی شفافیت کو ممکن بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ میانمار میں سن 1962ء سے فوجی حکومت کا راج ہے جبکہ سن 1990ء میں ہوئے انتخابات میں نوبیل انعام یافتہ سوچی کی سیاسی جماعت نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم فوج نے انہیں اقتدار منتقل نہ کیا۔ نیشنل لیگ برائے جمہوریت کا قیام سن 1988ء میں ایک تحریک کی صورت میں ہوا تھا۔ فوج کے خلاف اس تحریک کے نتیجے میں ہزاروں سیاسی کارکنان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت :شادی خان سیف

DW.COM