1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی معیشت کا بحران اور لندن فسادات کا سبب افغان جنگ: طالبان

طالبان نے اپنی ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں امریکی معیشت کے بحران اور گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے فسادات کو افغانستان میں جنگ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

default

باغیوں کا دعوٰی ہے کہ ان دونوں کے پیچھے امریکہ اور برطانیہ کی افغانستان میں دس سال سے جاری جنگ میں اربوں ڈالروں کے اخراجات ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر بین الاقوامی فورسز پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں۔ طالبان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی خونریز مسلح مزاحمت کے ساتھ ساتھ جاری پراپیگنڈا مہم کے دوران مبالغہ آرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور عوامی بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔

طالبان کی ویب سائٹ پر شائع بیان میں کہا گیا، ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کو درپیش مالیاتی بحران، محرومیوں اور فسادات کی فوری اور بنیادی وجہ ان ملکوں کی جارحانہ اور استعماری پالیسیاں اور منصوبے ہیں۔ وہ اپنے ٹیکس گزاروں کے اخراجات پر بے بنیاد اور غیر قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عوام کے مسائل سے منہ پھیر رکھا ہے۔‘‘

بیان میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ کی مالی مشکلات اسے 'سوویت یونین طرح تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیں گی'۔ سوویت فوج افغانستان پر حملے کے دس سال بعد 1989 میں وہاں سے نکل گئی تھی۔ تاریخ دان اکثر سوویت یونین کے اس قدم کو 1991 میں اس کی تحلیل سے منسوب کرتے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں بین الاقوامی فرم اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پہلی بار امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ کو ٹرپل اے (AAA) سے گھٹا کر ڈبل اے پلس (AA+) کر دیا تھا۔

Dossierbild 3 Großbritannien Ausschreitungen

طالبان کا دعوٰی ہے کہ امریکی معیشت کے بحران اور لندن فسادات کا سبب دس سال سے جاری افغان جنگ ہے

گزشتہ ہفتے برطانیہ کے دارالحکومت لندن اور کئی دیگر بڑے شہروں میں چار روز تک ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات ہوئے تھے۔ برطانیہ اور امریکہ افغانستان کی جنگ میں فوجی بھیجنے والے دو بڑے ملک ہیں اور اس وقت وہاں امریکا کے ایک لاکھ فوجی اور برطانیہ کے ساڑھے نو ہزار فوجی موجود ہیں۔

اتوار کو افغانستان میں طالبان کے تازہ ترین بڑے حملے میں کابل کے شمال میں واقع صوبہ پروان کے گورنر کے کمپاؤنڈ کو ہدف بنایا گیا جس میں 22 افراد ہلاک ہو گئے۔

رواں ماہ کے اوائل میں عسکریت پسندوں نے وسطی افغانستان میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعوٰی کیا تھا جس میں 38 فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ اس سال کے دوران کسی ایک واقعے میں غیر ملکی فوجیوں کا سب سے بڑا نقصان تھا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM