1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی معاشرہ ’پاتال‘ میں گِر چکا ہے، چین

چین نے کہا ہے کہ امریکی معاشرہ پُرتشدد جرائم، غربت، صنفی اور نسلی امتیاز اور متعدد دیگر برائیوں کا شکار ہو کر پاتال میں پہنچ چکا ہے۔ بیجنگ حکام نے امریکہ کے بارے میں یہ مؤقف اپنی ایک رپورٹ میں اختیار کیا ہے۔

default

گوآنتانامو بے کا حراستی کیمپ

یہ رپورٹ اتوار کو جاری کی گئی۔ اس میں عراق اور افغانستان میں امریکی جنگوں میں ہونے والے خون خرابے پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ واٹر بورڈنگ کی رپورٹوں اور مشتبہ دہشت گردوں سے کیے جانے والے سلوک کو بھی ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔

چین نے اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کا سیاسی نظام مفادات کا غلام بن چکا ہے۔ بیجنگ حکام یہ رپورٹ ہر سال جاری کرتے ہیں، جو دراصل دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کا جواب ہوتا ہے۔

اس مرتبہ کی چینی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، ’امریکہ نے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے بدترین ریکارڈ پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور ان کا تذکرہ شاذو نادر ہی کیا جاتا ہے‘۔

اِس سے پہلے امریکہ نے انسانی حقوق کے موضوع پر جمعہ کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں چین پر کڑی تنقید کی تھی۔ اس میں خاص طور پر چین میں حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے چینی ریکارڈ کا رجحان منفی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ آزادئ اظہار پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ تبت اور سنکیانگ کے علاقوں میں بھی بندشیں ہیں۔

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009

چین نے اپنی رپورٹ میں امریکہ کے افغان اور عراق مشن پر بھی تنقید کی

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن انتظامہ کو چین میں کیے جانے والے کریک ڈاؤن پر بہت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہاں درجنوں وکلاء، مصنفین، دانشوروں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بیجنگ حکومت کے ایک ترجمان نے ہفتہ کو کہا تھا کہ امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نام پر دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت بند کر دے۔

انہوں نے مزید کہا تھا، ’امریکہ میں حکومت کی جانب سے شہری اور سیاسی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں‘۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس