1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی مسلمانوں کی خدمات دوسرے امریکیوں سے کم نہیں، اوباما

صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سوچ امریکی اقدار کے عین منافی ہے۔ انہوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کی مناسبت سے مسلمانوں کے لیے اہتمام کردہ ایک عید استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

واشنگٹن سے جمعہ بائیس جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالفطر کی مناسبت سے اپنی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں جمعرات کی رات اہتمام کردہ ایک استقبالیے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی تعمیر و ترقی میں مسلم تارکین وطن نے بھی بے تحاشا خدمات انجام دی ہیں۔

باراک اوباما نے کہا کہ ایک مذہب کے طور پر اسلام یا مسلمانوں کے خلاف عمومی امتیازی رویہ اختیار کرنے کا مطلب دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیلنا ہو گا۔ اوباما نے کہا، ’’مسلمان امریکی بھی اتنے ہی محب وطن ہیں، امریکی معاشرے میں اتنے ہی زیادہ ضم ہو چکے ہیں اور اتنے ہی زیادہ امریکی ہیں جتنے کہ امریکا میں رہنے والے کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والے شہری۔‘‘

روئٹرز کے مطابق باراک اوباما نے کہا کہ امریکی معاشرہ ایک خاندان ہے، جس کے رکن کے طور پر امریکی مسلمان کسی بھی دوسرے رکن سے کم نہیں ہیں۔

اس موقع پر امریکی صدر نے زور دے کر کہا، ’’چاہے آپ (مسلمانوں) کا خاندان یہاں کئی نسلوں سے آباد ہے یا آپ امریکا میں نئے آئے ہیں، آپ امریکا کے معاشرتی ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ ہیں۔‘‘

اوباما انتظامیہ کو اس کے ان ارادوں کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، جن کے تحت سال رواں کے آخر تک امریکا کو اپنے ہاں دس ہزار شامی مہاجرین کو پناہ دینا ہے۔

واشنگٹن حکومت کے ان منصوبوں پر کئی ریپبلکن سیاستدانوں نے یہ کہتے ہوئے بلند آواز اعتراضات بھی کیے تھے کہ اس طرح ’تشدد پر آمادہ عسکریت پسند‘ مہاجرین کے روپ میں امریکا میں داخل ہو سکتے ہیں۔

Symbolbild - Muslime in den USA

اوباما کے بقول امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سوچ امریکی اقدار کے عین منافی اور دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گی

اس پس منظر میں صدر اوباما نے امریکا میں اسی سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کا خاص طور پر نام لیے بغیر کہا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی قسم کی امتیازی پالیسیاں یا امتیازی سوچ ’بنیادی امریکی اقدار کے عینی منافی‘ ہیں۔

باراک اوباما نے عید استقبالیے کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’مسلم امریکیوں کو تنہا کرنے کی کسی بھی کوشش سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش) کے اس جھوٹ کو تقویت ملے گی کہ مغربی دنیا ایک ایسے مذہب کے خلاف جنگ کر رہی ہے، جس کے پیروکاروں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔ قومی سلامتی کے حوالے سے بھی یہ کوئی دانش مندانہ عمل نہیں ہو گا۔‘‘