1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی مسجد میں آتشزنی کا مشتبہ ملزم پنجگانہ نمازی تھا

امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلمانوں کی ایک مسجد میں آتشزنی کے گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے کا مشتبہ ملزم اسی مسجد میں ہر روز پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کرتا تھا۔ یہ بات ملزم پر عائد کردہ فرد جرم میں کہی گئی ہے۔

واشنگٹن سے جمعرات اکتیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ہیوسٹن کے رہنے والے اس ملزم کا نام گیری ناتھانیئل مور ہے، جس کی عمر 37 برس ہے۔

ہیوسٹن کرونیکل نامی جریدے کی رپورٹوں کے مطابق گیری مور نے تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ وہ ہر ہفتے کے ساتوں دن پانچوں وقت کی باجماعت نماز ہیوسٹن کی اسی مسجد میں پڑھتا تھا۔ اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ اگر یہ مبینہ ملزم ایک نومسلم ہے تو اس نے اسلام کب قبول کیا تھا۔

ملزم مور کو بدھ تیس دسمبر کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور کل ہی اس کے خلاف باقاعدہ الزامات عائد کرتے ہوئے اسے ہیرِس کاؤنٹی کی ایک عدالت میں پیش بھی کر دیا گیا۔ ہیوسٹن کرونیکل نے اپنی رپورٹ میں ملزم کے خلاف چارج شیٹ کی جو نقل شائع کی ہے، اس کے مطابق شہر کی جس مسجد میں پچیس دسمبر کرسمس کے روز آتشزنی کا واقعہ پیش آیا تھا، اس دن اس مسجد سے جمعے کی نماز کے بعد دو بجے سہ پہر رخصت ہونے والا آخری فرد ملزم مور ہی تھا۔

یہ چھوٹی سے مسجد شہر کے ایک شاپنگ مال میں واقع ہے اور اس آتشزنی کے نتیجے میں اس کا اندرونی حصہ تباہ ہو گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزم مور نے پولیس کو بتایا کہ اس نے مسجد سے اپنی رخصتی کے وقت تک کوئی آگ نہیں دیکھی تھی اور اس بارے میں اسے خبر بعد میں اس کے ایک دوست کے ذریعے ملی تھی۔

اس کے برعکس پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گیری مور کو ایک سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج کی روشنی میں حراست میں لیا اور گرفتاری سے پہلے پولیس نے ملزم کے گھر کی تلاشی بھی لی تھی۔ تلاشی کے دوران پولیس کو ایک ایسا کنٹینر بھی ملا تھا جس میں کوئلوں کو آگ لگانے والا محلول بند ہوتا ہے۔ یہ کنٹینر بالکل اسی طرح کا تھا، جیسا آتشزنی کے واقعے کے بعد پولیس کو موقع واردات سے ملا تھا۔

اس کے علاوہ مشتبہ ملزم کے گھر سے پولیس کو ایسا لباس بھی ملا تھا، جو اسی طرح کا تھا، جیسا ویڈیو فوٹیج میں نظر آنے والے ملزم نے پہن رکھا تھا۔ ہیوسٹن کی اس مسجد پر حملہ امریکا ہی میں اس خونریز دہشت گردانہ حملے کے چند ہفتے بعد کیا گیا تھا، جس میں ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسلم جوڑے نے کئی عام شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

Symbolbild - Muslime in den USA

دیگر مغربی ممالک کی طرح امریکا میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی کمیونٹی آباد ہے

تفتیشی ماہرین کے مطابق کیلی فورنیا میں دہشت گردانہ حملے کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ امریکا میں مسلمانوں کو انتقامی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ ہیوسٹن کی مسجد پر حملہ اگر واقعی مشتبہ ملزم گیری نے کیا تھا، تو اس نے مسلمان ہوتے ہوئے کسی ایسی عبادت گاہ کو آگ کیوں لگائی، جہاں وہ خود اپنے بقول گزشتہ پانچ سال سے باقاعدگی سے نماز پڑھنے جاتا تھا۔

جریدے ہیوسٹن کرونیکل نے جب ملزم گیری مور کے بارے میں ممکنہ معلومات کے لیے اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر مسرور جاوید خان سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ وہ ملزم گیری مور کو نہیں جانتے۔