1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی محکمہء دفاع وِکی لیکس کی مشکل سے نمٹنے کو تیار

امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ عراق جنگ سے متعلق افشا کی جانے والی خفیہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے لئے اس محکمے کی ایک وسیع تر ٹیم تیار ہے۔ وِکی لیکس نے یہ دستاویزات رواں ماہ جاری کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

default

امریکی محکمہء دفاع کے ترجمان کرنل ڈیوڈ لیپن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ خفیہ معلومات کس وقت افشا کی جانے والی ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ پیر یا منگل کو بھی سامنے آ جائیں، تو ان کی ٹیم تیار ہے۔

US Truppen im Irak

عراق جنگ سے متعلق پانچ لاکھ تک دستاویزات کا اجراء متوقع ہے

وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے ایسی پانچ لاکھ دستاویزات کا اجراء رواں ماہ کسی وقت متوقع ہے۔ وکی لیکس کے قبل ازیں سامنے آنے والے ایک اعلامئے کے مطابق یہ دستاویزات اسی ہفتے کسی بھی وقت سامنے آ سکتی ہیں۔

دوسری جانب روئٹرز نے ایسی دستاویزات کے متوقع اجراء سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ وکی لیکس ’کلاسیفائڈ‘ فائلز مزید ایک ہفتے تک جاری نہیں کرے گی۔

پینٹا گون کا کہنا ہے کہ اس کی 120 رکنی ٹیم عراق جنگ سے متعلق جاری کی جانے والی خفیہ دستاویزات کا جائزہ لے گی۔ کرنل ڈیوڈ لیپن کا کہنا ہے، ’یہ وہی ٹیم ہے جس نے افغان جنگ سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں کہ اس مرتبہ جائزے کے عمل میں حصہ لینے کے لئے ان میں سے کتنے لوگوں کی ضرورت ہوگی۔‘

روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ میں عراق جنگ سے متعلق بحث اب ماند پڑ چکی ہے، لیکن وکی لیکس کی جانب سے دستاویزات کے اجراء سے ابو غریب جیل کے سکینڈل جیسی کچھ تلخ یادیں پھر سے ابھر آئیں گی جبکہ عراق پر اثر انداز ہونے والے اندرونی اور بیرونی عوامل پر بھی بحث نئے سرے سے چھڑ سکتی ہے۔

Misshandlung von Gefangenen in Irak - Reaktionen Ägypten Miniquiz Mai 2004

ابوغریب جیل کے سکینڈل نے عراق جنگ پر ایک نئی بحث کو جنم دیا

روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان دستاویزات میں عراق میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق انکشافات بھی شامل ہوں گے، لیکن اس سے افغان جنگ کی دستاویزات سے زیادہ بڑا ہنگامہ کھڑا نہیں ہو گا۔

وِکی لیکس نے رواں برس جولائی میں افغان جنگ سے متعلق بھی 70 ہزار خفیہ دستاویزات جاری کر دی تھیں۔ تاہم ان دستاویزات میں تقریباﹰ ایک دہائی پر مبنی افغان مشن کے بارے میں ایسے انکشافات شامل نہیں تھے، جنہیں انتہائی اہم قرار دیا جا سکے۔ پھر بھی امریکی فوج کی تاریخ میں سکیورٹی کی اپنی نوعیت کی یہ سب سے بڑی خلاف ورزی تھی اور حالیہ خبروں کی تصدیق ہو گئی تو اب تک خفیہ معلومات کو افشاء کئے جانے کا یہ سب سے بڑا عمل ہو گا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس