1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی مالیاتی نظام کو ایک اور دھچکا

امریکی حکومت کی مالیاتی پیکیجوں، وعدوں اور تمام ترکوششوں کے باوجود رواں ہفتے امریکی اقتصادی نظام کو ایک اور دھچکا لگا۔

default

دنیا بھر میں مشہور امریکی موٹر ساز کمپنیاں، جنرل موٹرس اور کرائسلر شدید مالی بحران کی شکار ہیں

پیر کے روز جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملکی صنعتی پیداوار نومبر کے دوران اعشاریہ چھ فیصد کم ہو گئی جس کا سب سے زیادہ نقصان موٹر کار صنعت کو ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور دیگر حکومتی ادارے مالیاتی نظام میں استحکام لانے کے لئے نئی نئی تدابیر اپنا رہے ہیں لیکن بازار حصص کی قیمتوں میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی ہے۔

اس گھمبیر صورت حال کے پیش نظر امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو شرح سود میں مزید کمی کر سکتا ہے۔ بینک کے اعلیٰ عہدے داروں کا دو روزہ اجلاس پیر سے جاری ہے اور منگل کو کسی بھی وقت شرح سود میں کمی کا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔

George W. Bush

امریکی صدر جارج بُش کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بظاہر ناکامی کے بعد ملک کے اندر مالیاتی نظام میں عدم استحکام نے پریشان کردیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ بینک کی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی شرح سود کو اس کی موجودہ ایک فیصد کی سطح سے نصف یا ایک چوتھائی بھی کر سکتی ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ فیڈرل ریزرو کی طے کردہ اس شرح میں کی گئی تاریخی کمی ہوگی۔ ماہرین اسے امریکہ کی جانب سے مالیاتی بحران سے نکلنے کی ایک اور کوشش قرار دے رہے ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کے سربراہ Ben Bernanke نے واضح کیا ہے کہ معیشی بحالی کے لئے شرح سود کے بجائے دیگر حل بھی تلاش کئے جا رہے ہیں۔

اسی دوران بش انتظامیہ نے مالیاتی بدحالی کی شکار کارسازی کی ملکی صنعت کو سہارا دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سینیٹ میں مجوزہ مالیاتی بیل آؤٹ کے منصوبے کی ناکامی کے بعد اس صنعت کی ہنگامی مدد کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Autokrise USA Meltdown Auto Congress

امریکہ نے ابھی جنرل موٹرس اور دیگر کار کمپنیوں کی مدد کے لئے چودہ ارب ڈالر کی خطیر رقم کا پیکیج تجویز کیا تھا تاہم سینیٹ میں رپبلکنز نے اس حوالے سے ایک بل پر اتفاق نہیں کیا

صدر بش نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا: " کسی بھی ملکی کار کمپنی کا دیوالیہ ہونا مجموعی اقتصادی صورت حال پر اور بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔"

دوسری جانب امریکہ کی بڑی کار ساز کمپنیوں، جنرل موٹرز اور کرائیسلر نے کہا ہے کہ انہیں حکومتی امداد نہ ملی تو چند ہفتوں میں ہی ان کے مالی وسائل ختم ہو جائیں گے۔

امریکی کارسازی کی صنعت کے حامی سمجھے جانے والے ڈیموکریٹ سینیٹر Carl Levin کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس صعنت کے لئے ہنگامی امدادی پیکیج کا حجم 15 ارب ڈالر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بش انتظامیہ کے منصوبے کے تحت جنرل موٹرز کو آٹھ بلین ڈالر جبکہ کرائیسلر کو سات بلین ڈالر دیے جا سکتے ہیں۔

امریکی کارساز کمپنیوں نے مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے 34 ارب ڈالر کی ہنگامی مدد مانگی تھی جس کے بعد امریکی سینیٹ میں آٹوموبائل انڈسٹری کی بحالی کے لئے 14 ارب ڈالر کے مالیاتی بیل آؤٹ کا مجوزہ منصوبہ گزشتہ ہفتے ناکام ہو گیا۔ رپبکلنز کی طرف سے اس بل کی نامنظوری کے بعد ڈیموکریٹ سینیٹر Harry Reid نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "صرف کاریں بنانے والے ہی نہیں بلکہ لاکھوں امریکی، جن کا انحصار موٹر کار صنعت پر ہے، اس سے براہ راست متاثر ہوں گے۔"

اس صورت حال کے نتیجے میں یہ خطرہ ابھی تک برقرار ہے کہ موٹر کارکمپنیاں اپنے دیوالیہ ہونے سے متعلق قانونی درخواستیں دینے کے ساتھ ساتھ اپنے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ بھی کر سکتی ہیں۔

DW.COM