1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی قونصل خانے کا ڈرائیور پاکستان سے نکل گیا، رپورٹ

پاکستانی شہری کو کچلنے والی امریکی قونصل خانے کی گاڑی کے ڈرائیور کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ امریکہ پہنچ چکا ہے۔ یہ خبر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے امریکی میڈیا کے حوالے سے جاری کی ہے۔

default

ڈیوس کو عدالت لائے جانے کے موقع پر لی گئی تصویر

پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیلی ویژن رپورٹوں میں امریکی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لاہور میں ایک پاکستانی شہری کو کچلنے والی امریکی قونصل خانے کی گاڑی کا ڈرائیور اب امریکہ میں ہے۔

ستائیس جنوری کو لاہور میں امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی جانب سے دو پاکستانی شہریوں پر گولی چلانے کے بعد قونصل خانے کی گاڑی ان کی مدد کو پہنچی تو اس نے ایک راہ گیر عباد الرحمان کو کچل دیا تھا۔ اس گاڑی میں ایک اور شخص بھی سوار تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دونوں افراد اب امریکہ پہنچ چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق وہ دونوں سفارتی ویزے پر پاکستان میں تھے۔ ان کی امریکہ آمد کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے معلومات بعد میں فراہم کریں گے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک پاکستانی عدالت اس واقعے میں ملوث ڈرائیور کی گرفتاری کا حکم بھی جاری کر چکی ہے۔ یہ فیصلہ عباد الرحمان کے خاندان کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے بعد سامنے آیا۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف احتجاج بھی جاری ہے

خیال رہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس تنازعے کے حل کے لیے ابھی حال ہی میں امریکی سینیٹر جان کیری نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔

ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مارنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ قدم اپنے دفاع میں اٹھایا کیونکہ اسے لُوٹنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتی عملے کا رکن ہے اور اسے پاکستان میں ایسی کسی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ڈیوس کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے حکومت سے ڈیوس کے استثنیٰ سے متعلق وضاحت طلب کر رکھی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس