امریکی فوج جنگی کارروائیوں میں شریک ہے، رپورٹ | حالات حاضرہ | DW | 10.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوج جنگی کارروائیوں میں شریک ہے، رپورٹ

امریکا کی طرف سے سرکاری طور پر تو یہی کہا جاتا ہے کہ امریکی افواج افغانستان میں جنگی کاررائیوں میں شرکت ختم کر چکی ہیں۔ تاہم ایک حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسا درست نہیں ہے۔

ان پر ہزارہا مرتبہ گولیاں چلیں، انہوں نے کئی مرتبہ لڑائی میں حصہ لیا۔۔۔ اور معجزاتی طور پر موت سے بال بال بچے۔ امریکی فوج کی حال ہی میں ایک ڈی کلاسیفائی یا غیر مخفی کی جانے والی رپورٹ میں یہ بیان دراصل افغان فوجیوں کے افغانستان میں حالیہ کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔

یہ تفصیلات دراصل قندوز میں قائم ڈاکٹرز وِڈ آؤٹ بارڈرز MSF کے ایک ہسپتال پر امریکی فضائی حملے کی تحقیقاتی رپورٹ میں درج ہیں۔ اس حملے میں 42 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ رپورٹ بنیادی طور پر تو تین اکتوبر کو پیش آنے والے سانحے پر روشنی ڈالتی ہے مگر اس میں امریکی پالیسی کی ’سیاسی مصلحتوں‘ کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات اور گزشتہ برس ملکی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالی والی افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورس ANDSF کے ساتھ کام کے حوالے سے مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے ملکی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 9800 رہ گئی ہے جبکہ طے شدہ پروگرام کے مطابق آئندہ برس یہ تعداد مزید کم کر کے 5500 تک رہ جانا ہے۔ لیکن چونکہ افغان فورسز کو سکیورٹی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے اس لیے نئے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کی تجاویز پر مستقبل میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ افغانستان اور عراق میں امریکی مداخلت ختم کر دی جائے گی جبکہ وہ یہ بات بھی کہہ چکے ہیں کہ ان ممالک میں موجود باقی ماندہ امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ وہ مقامی پارٹنرز کو تربیت دے رہے ہیں یا پھر مشیرانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اوباما شام میں بھی امریکی فوج بھیجنے کے مخالف ہیں۔

ڈاکٹرز وِڈ آؤٹ بارڈرز MSF کے ایک ہسپتال پر امریکی فضائی میں 42 افراد ہلاک ہوئے تھے

ڈاکٹرز وِڈ آؤٹ بارڈرز MSF کے ایک ہسپتال پر امریکی فضائی میں 42 افراد ہلاک ہوئے تھے

گزشتہ برس ستمبر میں جب افغان طالبان نے کچھ وقت کے لیے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا اور افغان فورسز مشکلات میں گھِری ہوئی تھیں تو وہاں تعینات امریکی فوجیوں نے کئی دنوں تک جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ تین اکتوبر 2015ء کو امریکی فورسز کو بھی افغان فورسز کے ساتھ قندوز کا قبضہ واپس حاصل کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ جس وقت قندوز میں واقع ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈز کے ہسپتال پر فضائی حملہ کیا گیا اُس وقت امریکی اور افغان فورسز گلیوں میں لڑی جانے والی شدید جنگ میں گھرے ہوئے تھے جسے چار روز گزر چکے تھے اور ان فورسز کے پاس سپلائی بہت کم رہ گئی تھی۔

طالبان کے فائر کی زد میں آنے کے بعد فورسز نے اے سی 130 گن شپ کی مدد طلب کی۔ امریکی ملٹری کے مطابق غلطیوں کے ایک سلسلے کے سبب عملے نے سمجھا کہ وہ جس عمارت پر بم برسا رہے ہیں وہ طالبان کا ایک کمپاؤنڈ ہے مگر اصل میں وہ MSF کا ہسپتال تھا جس کے باہر سویلین بھی موجود تھے۔ ان کے کمانڈر کی طرف سے 29 اپریل کو اعلان کیا گیا تھا کہ حملے کے ذمہ داروں پر جنگی جرائم کا الزام تو عائد نہیں کیا جائے گا تاہم ان 16 افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی جو اپنی ذمہ داریاں درست طور پر انجام نہ دے پائے۔