1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجی کے کورٹ مارشل کا اعلان

افغانستان میں نہتے شہریوں کے قتل کے الزام میں 12 امریکی فوجیوں میں سے ایک کو کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس فوجی پر قتل سمیت دیگر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

default

ان فوجیوں میں سے الاسکا کے علاقے واسیلا کے 22 سالہ آرمی اسپیشلسٹ جیریمی مورلاک کے کورٹ مارشل کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر الزامات ثابت ہو ئے تو اس کے لئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ اس پر افغان شہریوں کے عمداﹰ قتل کا الزام ہے۔

حکام کے مطابق مورلاک کا مقدمہ رواں ہفتے اس کے آرمی یونٹ کی واشنگٹن کے علاقے میں قائم بیس میں جنرل کورٹ مارشل کو بھیجا گیا ہے، تاہم سماعت کے لئے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

اس مقدمے کو ذرائع ابلاغ کی وسیع تر توجہ حاصل رہی۔ اس کی وجہ مورلاک اور اس کے ساتھی فوجیوں پر لگنے والا یہ الزام تھا کہ انہوں نے لاشوں کی تصویریں بنائیں اور جسم کے اعضا کو جنگی ٹرافیاں کی طرح اٹھایا۔ ان تصویروں پر دنیا بھر میں بالکل ویسے ہی غم و غصہ ظاہر کیا گیا تھا، جیسے عراق کی ابوغریب جیل میں قیدیوں کی برہنہ تصویریں منظر عام پر آنے کے بعد دیکھا گیا۔

ان الزامات کا سامنا کرنے والے تمام فوجی طالبان کے گڑھ افغان صوبہ قندھار میں تعینات5th اسٹرائیکر بریگیڈ میں شامل تھے۔ تاہم اس بریگیڈ کو اب سیکنڈ اسٹرائیکر کا نام دیا جا چکا ہے۔

اس مقدمے کی پہلی سماعت گزشتہ ماہ ہوئی، جس میں استغاثہ نے مورلاک کو ان فوجیوں کے رِنگ لیڈر قرار دیے جانے والے اسٹاف سارجنٹ کالون گبس کا دست راست قرار دیا۔

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009

افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں میں سب سے زیادہ امریکی ہیں

اس وقت مورلاک کے سویلین وکیل مائیکل واڈنگٹن نے کہا تھا کہ مرنے والے افغان شہری ’آوارہ پلاٹون‘ کا شکار بنے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا مؤکل وہاں موجود ضرور تھا لیکن کسی کی بھی موت کا سبب نہیں بنا۔ اس واقعے میں دو شہری گرینیڈ اور فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ ایک گولیاں لگنے سے۔

ایک فوجی کے خلاف اسی نوعیت کی ایک سماعت آئندہ جمعرات کو ہونے والی تھی، جس پر افغان شہریوں کے قتل کی سازش کا الزام ہے۔ تاہم بیس کی ترجمان میجر کیتھلین ٹرنر کا کہنا ہے کہ سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM