1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجی کو افغان شہریوں پر فائرنگ کے الزام میں سزا

امریکی آرمی اہلکار سارجنٹ رابرٹ سٹیفن کوافغان شہریوں پر بلاوجہ فائرنگ کی پاداش میں سزا سنائی گئی ہے۔ وہ ایسے ہی جرائم میں ملوث دوسرے ساتھی فوجی اہلکاروں کے خلاف گواہی دینے پر بھی تیارہیں۔

default

25 سالہ رابرٹ سٹیفن کو 9 ماہ جیل میں رکھا جائے گا، جبکہ سٹیفن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے’’ افغان شہریوں پر براہ راست‘‘ فائرنگ کی اور اپنے حکام سے جھوٹ بھی بولا۔ اپنے استغاثہ کے ساتھ ایک معاہدے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان فوجی اہلکاروں کے خلاف بھی گواہی دینے کو تیار ہیں، جو کہ افغانستان میں جرائم کے مرتکب ہوئے۔

سٹیفن کے ساتھی فوجیوں پر یہ الزام عائد ہے کہ انہوں نے جنوبی افغانستان کے صوبے قندہار میں نہ صرف تین افغان شہریوں کو ہلاک کیا بلکہ ان کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی۔ فوجیوں کے خلاف اس بات پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذاق کے لئے لوگوں کو قتل کرتے رہے۔ سٹیفن کے خلاف 5 الزامات ہیں، جن میں سے ایک نہتے شہریوں پر فائرنگ کا بھی ہیں۔

Bewaffneter Soldat einer amerikanischen Spezialeinheit auf afghanischem Boden

ایک امریکی فوجی افغانستان میں

سٹیفن نے جج لیفٹیننٹ کرنل کاسی ہاکس کو بتایا کہ وہ قندہار میں ایک جگہ گشت کر رہے تھے کی اس نے ایک میدان میں افغان شہریوں کو دیکھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ شہری ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ فوجیوں سے چھپنے کی بجائے کھلے عام گھوم پھر رہے تھے۔

لیکن اس کے ساتھی لیڈر سٹاف سارجنٹ کالیوین گبز نے کہا کہ فائرنگ کے لئے تیار رہو آدمیوں میں سے ایک کے پاس راکٹ پروپیلڈ گرنیڈ ہیں۔ سٹیفن نے بتایا کہ اس نے افغان شہریوں پرفائرنگ کی لیکن اس بات کا خیال رکھا کہ گولیاں ان کو نہ لگیں۔

یہ مقدمہ ایک فوجی عدالت میں چلایا گیا ہے۔ سزا ختم ہونے کے بعد سٹیفن کی ملازمت فوج میں برقرار رکھی جائے گی۔

رپورٹ : امتیاز احمد

ادارت: افسراعوان

DW.COM