1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجی پر دہشت گردی کے ممکنہ منصوبے کی فرد جرم عائد

امریکی فوجی ناصر جیسن عبدو کو گزشتہ ماہ ریاست ٹیکساس کے شہر کلین میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کلین شہر امریکی فوجی مرکز فورٹ ہڈ کے پہلو میں واقع ہے۔

default

فورٹ ہڈ بیس پر امریکی فوجی

امریکی فوجی پر عدالتی کارروائی کے دوران گرینڈ جیوری نے تین مختلف الزامات کی فرد جرم عائد کی۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق تین الزامات میں عبدو کے ممکنہ منصوبے کے علاوہ فوج سے بھگوڑا ہونے کے ساتھ ساتھ اسلحے اور بارودی مواد کی دستیابی ہے۔ قانونی مبصرین کے مطابق استغاثہ کی جانب سے جرم ثابت ہونے پر عدالت امریکی فوجی کو دس سال تک کی سزا سنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر الزام کے تحت اس پر ڈھائی لاکھ ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

عبدو پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ایک ایسے ریستوران پر حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا جہاں فورٹ ہڈ مرکز کے فوجی اکثر و بیشتر شام کے وقت بیٹھا کرتے ہیں۔ اس کے قبضے سے بم بنانے کا ایک مضمون بھی پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ اس آرٹیکل کا عنوان ہے: اپنی والدہ کے کچن میں بم سازی ((Make a bomb in the kitchen of your Mom۔ انتیس جولائی کے روز عدالت میں اپنی پہلی پیشی پر عبدو نے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کرنے والے ندال حسن اور عراق میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی کے بعد قتل کردی جانے والی چودہ سالہ عبیر قاسم الجنابی کا نام بلند آواز سے بار بار پکارا تھا۔

۔

۔فورٹ ہڈ میں میجر حسن کی فائرنگ کے بعد فوجی گاڑی پر بیٹھا اداس امریکی فوجی

فورٹ ہڈ میں نومبر سن 2009 میں میجر ندال ملک حسن نے فائرنگ کر کے تیرہ افراد کو ہلاک اور دیگر بتیس کو زخمی کردیا تھا۔ میجر حسن اس وقت اپنے مقدمے کے شروع ہونے کا منتظر ہے۔ اس کا کورٹ مارشل اگلے سال مارچ میں کیا جائے گا۔

ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران عبدو نے فوجی ملازمین پر حملے کے ارادے کا اعتراف کیا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق ایک شہری کی جانب سے شکایت پر پولیس نے اس کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور بارودی مواد برامد کیا تھا۔ امریکی فوجی چائلڈ پورنو گرافی کے ایک الزام میں بھی مطلوب ہے۔

عبدو نے سن 2010 میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تناظر میں امریکی فوج میں اپنی ملازمت کو اپنے ضمیر پر بوجھ قرار دینے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ اِس درخواست میں اس نے واضح کیا تھا کہ فوجی ملازمت کے دوران فرائض کی انجام دہی میں اسے بحیثیت مسلمان ہونے کے ضمیر کی خلش کا سامنا رہتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس