1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجی مدد نہیں چاہیے:پاکستانی وزیر خارجہ

افغنستان کے مستقبل پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشگاف الفاظ میں امریکی فوجی امداد نامنظور کر دی ہے۔

default

بدھ کے دن امریکہ منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کا مسقبل زیر بحث رہا، جس کے دوران پینٹا گون نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دعوت دی کہ افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقوں میں سیکورٹی بہتر بنانے کے لئے امریکی فوج اپنی خدمات دینے کے لئے تیار ہے تاہم پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر صرف پاکستانی افواج ہی کارروائی کرنے کی مجاز ہیں اور کسی غیر ملکی فوج کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔

کابل میں بھارتی سفارتخانے پر خود کش حملے کے دو دن بعد ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغان اور پاکستانی وزرائے خارجہ نے ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کاکرنے پر زور دیا۔ دونوں اعلی عہدیداروں نے ہمیشہ کی طرح اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کےضمن میں ایکدوسرے پر الزامات لگائے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لئے تمام فریقین کے مابین اعتماد سازی بہت ضرروی ہے اور اس کے لئے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف افغان وزیر خارجہ نے افغانستان میں سیکورٹی کی مخدوش صورتحال کی بنیادی وجہ بیان کرتے ہوئے اشارتا کہا کہ پاکستانی قبائلی علاقہ جات میں سرگرم طالبان باغیوں کے ساتھ امن معاہدے کی کوششیں خطے کا امن تباہ کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مخصوص خطے میں فوجی کارروائی سے معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ پاک افغان تعلقات کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مسائل کا حل مذاکرات میں ہےجبکہ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت طالبان باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کے حق میں نہیں ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ مستقبل میں اگر پاکستانی حکومت پر زور بڑھا تو حکومت پاکستان خود فوجی کارروائی پر اتر سکتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ انیٹو افواج پاکستان کی سرحدوں میں کارروائی نہیں کریں گے اور اگر یوں ہوا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔