1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجی سربراہ کا دورہ پاکستان

تقریبا دو ہفتوں میں ایڈمرل مولن کے دوسرے دورہ اسلام آباد سے اس تاثرکو مزید تقویت ملی ہے کہ امریکی انتظامیہ اور بالخصوص اس کے عسکری ادارے علاقے میں القاعدہ اور اس کے مقامی حلیفوں کے خلاف مہم میں مزید تیزی لانا چاہتے ہیں۔

default

امریکی فوجی سربراہ کا دو ہفتوں میں پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے

اسی سبب خاص طور پر پاکستانی فوجی قیادت کے ساتھ رابطوں میں مزید اضافے کے خواہشمند ہیں اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ، پاکستان کی خفیہ تنظیم انٹرسروسز انٹیلی جنس کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ تعاون کی خواہش مند ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ ادارے افغان عسکریت تنظیموں اور شخصیات کے ساتھ روابط کے باعث طالبان اور القاعدہ کے خلاف موثر کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اسی تناظر میں 7 اپریل کو ایڈمرل مولن اور خصوصی ایلچی ہالبروک نے اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ علیحدگی میں ملاقات کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی تاہم جنرل پاشا کے دورہ واشنگٹن میں بہتر اشتراک عمل ہی کے حوالے سے جنرل پاشا اور امریکی جرنیلوں کی ملاقات ضرور ہوئی جبکہ مائیکل مولن کے تازہ ترین دورے کو بھی آئی ایس آئی کے ساتھ تعاون بڑھانے اور فوجی حکمت کو مربوط کرنے کی امریکی خواہش ہی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اس دوران ایڈمرل مولن نے آرمی سربراہ جنرل اشفاق کیانی سمیت تمام اہم عسکری اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ تجزیہ نگار جنرل حامد نواز نے روز افزوں پاک امریکہ اور فوجی مشاورت کے حوالے سے بتایا: ’’ ایک تو انہیں معاہدہ سوات کی پریشانی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان طالبان کے لئے کوئی نرم گوشہ رکھتا ہے یا طالبان کے خلاف اس طرح ایکشن نہیں لینا چاہتے اور دوسرا ظاہر ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان بہت یکسوئی کے ساتھ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہو جائے۔‘‘

خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سمیت کئی امریکی عہدیدار متعدد مرتبہ سوات میں نظام عدل ریگولیشن کے حوالے سے تحفظات اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے خیال میں عسکریت پسندی پاکستان کی سب سے بڑی دشمن بن چکی ہے اور دفاعی حکمت عملی میں بھی مہارت کی بجائے توجہ اسی مسئلے پر مرکوز ہونی چاہئے۔