1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجی اڈے کی منتقلی: جاپانی وزیراعظم کی معذرت

جاپانی علاقے اوکی ناوا میں امریکی فوجی اڈے کی منتقلی کا وعدہ جاپانی وزیر اعظم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ اب وہ اُس وعدے پر عمل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس پر انہوں نے اوکی ناوا کی عوام سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔

default

اوکی ناوا کی عوام جاپانی وزیر اعظم کے پالیسی فیصلے پر قطعاً خوش نہیں ہوئے بلکہ جواباً وہ اس اعلان پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران موجودہ وزیر اعظم یوکیو ہاتو یاما نے اوکی ناوا کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد امریکی فوجی اڈے کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی حتمی منظوری دیں گے۔ گزشتہ ماہ اوکی ناوا میں امریکی فوجی اڈے کے خلاف ہزاروں افراد ایک انتہائی بڑے مظاہرے میں شریک ہوئے تھے۔ اس میں اوکی ناوا کے گورنر نکائما ہیروکاذوبھی شریک تھے۔ جاپانی وزیر اعظم نے مئی کے اواخر میں امریکی فوجی اڈے کی منتقلی کے بارے میں پالیسی فیصلہ کرنا کا اعلان کر رکھا تھا۔

Japan US Militär Demonstration

امریکی فوجی کے اڈے کے خلاف مظاہرے کے شرکاء: فائل فوٹو

اب اُس فیصلے کے تناظر میں اتوار کو انہوں نے اپنے اُس وعدے پر قلم پھیر دیا جو انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ اپنے فیصلے میں وزیر اعظم ہاتو یاما نے کہا کہ اوکی ناوا کے امریکی ہوائی اڈے کی منتقلی سردست ممکن نہیں ہے اور اس مناسبت سے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے گا تا کہ اوکی ناوا کی عوام پر فوجی اڈے کے بوجھ کو وقت کے ساتھ کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جاپانی وزیر اعظم فوجی اڈے کی منتقلی کا اعلان کر کے اپنے بڑے اتحادی ملک امریکہ کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں مول سکتے تھے۔ امریکہ کئی برسوں سے جاپان کا سیکیورٹی اور اقتصادیات کا اہم ترین پارٹنر چلا آ رہا ہے۔ ماہرین کے خیال میں گزشتہ جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا مختصر دورہٴ جاپان بھی اہم تھا بظاہر وہ جنوبی کوریا کے بحری جہاز کے غرق ہونےکے تناظر میں تھا۔

مبصرین کے مطابق اس فیصلے سے اُن کی سفارتی ساکھ تو بحال رہے گی لیکن اندرون ملک اُن کو خاصی پریشانی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں

US Marine Base in Okinawa

اوکی ناوا کا امریکی فوجی اڈہ: فائل فوٹو

مزید خیال کیا جا رہا ہے کہ جاپانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے انتخابات پر جاپانی وزیر اعظم کی حکمران جماعت ڈییموکریٹک پارٹی کو خاصی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایوان بالا کے الیکشن میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہتی ہے توہاتو یاما کی مخلوط حکومت کو اہم فیصلوں میں مزید مشکلات کا سامنا ہو گا اور موجودہ سیاسی تعطل کی فضا میں تسلسل رہنے سے اقتصادی اور سیاسی حالات کے بند گلی میں داخل ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ جاپان کو مالی مسائل کا بھی سامنا ہے اور اُس کی جمود کی شکار اقتصادیات ابھی تک رینگ رہی ہے۔

امریکی فوجی مرکز کی منتقلی کے حوالے سے جاپانی وزیر اعظم نے فیصلہ دیا ہے کہ سن 2006 کے معاہدے کے تحت امریکی فوجی مرکز کوشمالی اوکی ناوا کے شہر ناگو کے ’ہےنوکو‘ ریجن میں منتقل کردیا جائے۔ جاپانی وزیر اعظم کے جواب میں اوکی ناوا کے گورنر Hirokazu Nakaima نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے اور پلان کو قبول کرنے میں بہت مشکلات حائل ہیں۔ وزیر اعظم کے اعلان کے فوراً بعد اوکی ناوا کے گورنر کے دفتر کے باہر مظاہرین جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح ناگو شہر کے ناظم Susumu Inamine نے بھی اپنی میٹنگ میں جاپانی وزیر اعظم کے پلان کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ ناگو کے ناظم کو اسی سال جنوری میں امریکی فوجی اڈے کی شدید مخالفت کی وجہ سے عوامی ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ جاپان کی بڑی اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر Mizuho Fukushima نے بھی وزیر اعظم کے پلان کی مخالفت کردی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM