1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے جنگجو زندہ ہیں، طالبان ترجمان

جمعرات کو طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے جنگجو زندہ ہیں۔ طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکی بیان ’سچ پر مبنی نہیں‘ ہے۔

default

قبل ازیں افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے والے طالبان شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جنرل جان ایلن نے کہا کہ نیٹو فورسز نے ان شدت پسندوں کو ایک کارروائی کے نتیجے میں ہلاک کیا، لیکن ان کے جس رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کی گئی تھی، وہ ہلاک نہیں ہوا۔

انہوں نے یہ انکشاف ہیلی کاپٹر کی تباہی کے بارے میں بریفنگ کےے دوران کیا، جس میں امریکی فورسز کے تیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر ایلیٹ نیوی سیلز تھے۔ افغانستان کی جنگ میں اسے امریکی فورسز کے لیے بدترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ دارالحکومت کابل کی ایک جنوب مغربی وادی میں پیش آیا، جس میں آٹھ افغانی بھی ہلاک ہوئے۔

جنرل ایلن نے کہا کہ چھ اگست کے آپریشن میں جس طالبان رہنما کو نشانہ بنانا مقصود تھا، وہ ابھی تک مفرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو فورسز اس نیٹ ورک کا پیچھا جاری رکھیں گی۔

انہوں نے اس آپریشن کے لیے ایلیٹ ٹیم کو بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں طالبان کے اہم رہنما کو نشانہ بنایا جانا تھا، اس لیے فرار ہوتے ہوئے شدت پسندوں کا پیچھا کرنا اہم تھا۔

جنرل ایلن نے کابل سے پینٹا گون میں موجود صحافیوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب میں کہا: ’’ہم نے بھاگتے ہوئے عناصر پر قابو پانے کے لیے فورس لگائی اور بلاشبہ اس مرحلے میں ان کے ہیلی کاپٹر کو آر پی جی لگا اور وہ تباہ ہو گیا۔‘‘

John Allen designierter ISAF Kommandeur in Afghanistan

جنرل جان ایلن

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد آٹھ اگست کو کیے گئے فضائی حملے میں ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے میں ملوث خیال کیے جانے والے دیگر طالبان انتہاپسند بھی ہلاک ہوئے۔ تاہم طالبان نے جنرل ایلن کے اس بیان کو فوری طور پر چیلنج کر دیا۔

نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کا رہنما ملا محب اللہ اور ہیلی کاپٹر پر فائر کرنے والا شدت پسند بھی شامل ہے۔ ایساف کے مطابق یہ دونوں افغانستان چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ امکان ظاہر کیا گیا کہ وہ ہمسایہ ملک پاکستان میں انتہاپسندوں کے کسی ٹھکانے تک پہنچنا چاہتے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس