امریکی فضائی کارروائی کے باوجود داعش کے حملوں میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی فضائی کارروائی کے باوجود داعش کے حملوں میں اضافہ

امریکا اور اس کے عسکری اتحاد کی تمام تر کوششوں کے باوجود گزشتہ تین ماہ کے دوران دنیا بھر میں داعش کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق ایک ہزار سے زائد حملوں میں تقریباﹰ تین ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔

دہشت گردی کے حوالے سے تجزیاتی رپورٹیں تیار کرنے والے ادارے ’IHS Jane's‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران داعش کے حملوں میں بیالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جولائی سے ستمبر کے دوران روزانہ کی بنیادوں پر اوسطاﹰ گیارہ عشاریہ آٹھ حملے کیے گئے۔ اپریل سے جون تک داعش کی طرف سے کیے جانے والے ان حملوں کی شرح روزانہ کی بنیادوں پر آٹھ عشاریہ تین تھی۔

ان اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں نے داعش کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچایا۔ لندن میں واقع اس گروپ کی رپورٹ کے مطابق داعش نے تین ماہ کے دوران کل ایک ہزار چھیاسی حملے کیے، جن کے نتیجے میں دو ہزار نو سو اٹھہتر افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری اور سرکاری اہلکار دونوں ہی شامل ہیں۔ آئی ایچ ایس جینز کے ٹیررازم اینڈ اِنسرجنسی سینٹر سے وابستہ میتھیو ہینمن کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں کی وجہ سے داعش پر دباؤ بڑھا ہے اور وہ اس کی تیزی کے ساتھ ہونے والی فتوحات کا سلسلہ بھی تھوڑا کمزور پڑا ہے لیکن داعش کی طرف سے حملے کرنے کی صلاحیت میں کمی نہیں آئی ہے۔

IS Kolonne Fahrzeuge Toyota

ان اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں نے داعش کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچایا

میتھیو ہینمن کا مزید کہنا تھا کہ روس بھی شام میں کود پڑا ہے اور اس کے فضائی حملے بھی مستقبل میں داعش کو مضبوط کر سکتے ہیں کیونکہ روسی فضائی حملوں کا اصل مقصد داعش کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسد حکومت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس رپورٹ میں نائیجیریا کی جہادی تنظیم بوکو حرام کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس عسکری گروپ نے رواں برس مارچ میں داعش کے ساتھ الحاق کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس نئی رپورٹ کے مطابق داعش عراق اور شام میں اپنی حکمت عملی اور لڑائی کے طریقہء کار میں تبدیلی لائی ہے۔ ان دونوں ملکوں میں چند مرکزی شہروں پر قبضے کے بعد سے داعش مزید علاقوں پر قبضے کی بجائے ان شہروں کے دفاع میں مصروف ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ داعش نے اپنے حملوں کا پیمانہ چھوٹا کر دیا ہے لیکن یہ بار بار کیے جا رہے ہیں۔ ماضی میں داعش بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے بڑی سطح پر قتل و غارت کرتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی نئی شاخوں کے قیام کا اعلان تو کر چکی ہے لیکن کہیں بھی علاقائی سطح پر اہم پیش قدمی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رواں برس اگست کے دوران داعش نے سعودی عرب میں اپنی شاخ ’ولایہ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ ماضی میں داعش ایسی ہی ’ولایہ شاخوں‘ کے قیام کا اعلان افغانستان، پاکستان، الجیریا، مصر، لیبیا، یمن، روس کے شمالی قفقاز اور نائیجیریا میں کر چکی ہے۔