1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی عوام ’بد یا بدتر‘ میں سے ایک کو صدر چُنیں گے

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدارتی امیدواران کے درمیان ہونے والے حالیہ مباحثوں کے دوران اُن کے رویوں پرکڑی تنقید کی ہے۔ ایرانی صدر کے مطابق امریکی عوام کو’بد اور بدتر‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔

Iran Kritik an den US Wahlen (picture-alliance/AP Photo)

ایرانی صدر حسن روحانی کی تقریر امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے پہلا عوامی تبصرہ ہے

ایران کے شہر ارک میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا،’’ کیا آپ نے امریکی صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ دیکھا؟ انہیں ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے اور ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے بھی دیکھا؟ کیا ہم اپنے ملک میں ایسے انتخابات اور ایسی جمہوریت کا نفاذ چاہیں گے؟‘‘

 روحانی نے سرکاری ٹی وی کی براہِ راست نشریات میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’’ امریکا کا دعوی ہے کہ وہاں دو سو سال سے زائد عرصے سے جمہوریت نافذ ہے۔ ایسے ملک کا کیا حال ہو گا جہاں اخلاقیات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ صدر روحانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دورے کے دوران جب اُن سے پوچھا گیا کہ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سے امریکا کے متوقع صدر کے طور پر کسے ترجیح دیں گے تو انہوں نے کہا،’’مجھے کس کو ترجیح دینی چاہیے؟ بد کو بدتر پر یا بدتر کو بد پر؟‘‘

یمن کے حوثی باغیوں کے لیے ایرانی عسکری امداد میں تیزی

 

ایرانی سرکاری ٹی وی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان ہونے والے دو مباحثوں کو مکمل طور پر نشر کیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کی تقریر امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے پہلا عوامی تبصرہ ہے۔

Iran Kritik an den US Wahlen (picture-alliance/AP Photo)

ایرانی صدر کے مطابق امریکی عوام کے پاس’ بد یا بد تر‘ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں

مئی سن دو ہزار سترہ میں ایران میں بھی صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ حسن روحانی دوسری بار صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے اہل ہیں۔ گزشتہ ماہ سخت گیر موقف رکھنے والے سابق ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

 امریکا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدے کے باوجود واشنگٹن اور ایران کے درمیان ان انیس سو اناسی میں اسلامی انقلاب اور امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد منقطع ہونے والے سفارتی تعلقات آج تک بحال نہیں ہو سکے۔

یاد رہے کہ تہران پر سے بین الاقوامی پابندیاں نرم کرنے کا سلسلہ ایران کی متنازعہ جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کے بدلے میں شروع کیا گیا ہے۔

DW.COM