1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی عسکری اتحاد کے حملے، ایک ماہ میں 472 شامی شہری ہلاک

امریکی عسکری اتحاد کے فضائی حملوں کے باعث شام میں ایک ماہ کے دوران 472 شہری مارے گئے، جن میں 137 بچے بھی شامل تھے۔ ستمبر 2014 کے بعد کسی ایک ماہ کے دوران ہلاک ہونے شہریوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران امریکی عسکری اتحاد کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں دیر الزور اور الرقہ میں ہوئیں، جہاں انتہا پسند گروپ داعش ابھی تک ٹھکانے بنائے ہوئے ہيں۔

شام میں فضائی حملے، 35 عام شہری ہلاک
دمشق میں دو بڑے بم حملوں میں کم از کم چھیالیس ہلاکتیں
جنگ بندی ختم، حلب میں پھر لڑائی شروع
آبزویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ مشرقی شامی شہر دیر الزور میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 222 بنتی ہے جبکہ ڈھائی سو کے قریب شہری ہلاکتیں شمال مشرقی صوبے الرقہ میں وقوع پذیر ہوئیں۔ الرقہ کو داعش کا نام نہاد دارالحکومت قرار دیا جاتا ہے۔ شامی فورسز کے علاوہ امریکی عسکری اتحاد بھی ان علاقوں میں ان جہادیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔

رامی عبدالرحمان کے بقول دستیاب اعدادوشمار کے مطابق شامی شہریوں کے لیے یہ ماہ خونریز ترین ثابت ہوا ہے۔ اس جنگی اتحاد نے تیئس ستمبر سن دو ہزار چودہ میں داعش کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ اب تک شام میں امریکی عسکری اتحاد کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار نو سو ترپن ہو چکی ہے۔

سیرئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے اس تازہ بیان پر امریکی اتحاد کی طرف سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ مئی میں ہی اقوام متحدہ نے اس عسکری اتحاد پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شہری ہلاکتوں ميں کمی لانے کی خاطر مناسب اقدامات نہیں کر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس اتحاد نے شام میں ایسے علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے، جہاں داعش نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

شامی بحران کا آغاز سن 2011 میں پرامن مظاہروں سے ہوا تھا تاہم جلد ہی یہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس خونریز تنازعے کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ شام کی نصف آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ اس بحران سے قبل شام کی آبادی بائیس ملین تھی۔

عالمی طاقتوں کی کوشش ہے کہ شامی بحران کا پر امن حل تلاش کیا جائے تاہم چھ سالوں پر محیط اس تنازعے کے ختم ہونے کے امکانات ابھی تک آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ اس دوران روس اور ایران شامی صدر بشار الاسد کی قریبی حامی تصور کیے جاتے ہیں جبکہ امریکا اور متعدد یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ شام میں قیام امن کی خاطر بشار الاسد کا اقتدار سے الگ ہونا ضروری ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:48

شامی خانہ جنگی میں پیدا ہونے والے

DW.COM

Audios and videos on the topic