1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی عجائب گھر میں درجنوں نایاب قرآنی نسخوں کی نمائش

امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ایک عجائب گھر میں بائیس اکتوبر سے درجنوں نایاب قرآنی نسخوں کی ایک نمائش شروع ہو رہی ہے۔ اس نمائش کا مقصد امریکا میں اسلام کے موجودہ عمومی تصور کے برعکس اس مذہب کا مثبت رخ پیش کرنا ہے۔

Universität Birmingham - Fund alter Koran-Fragmente (picture-alliance/dpa/Birmingham University)

یہ نمائش مجموعی طور پر 63 نایاب قرآنی نسخوں پر مشتمل ہے جو فروری 2017ء تک جاری رہے گی

واشنگٹن سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس نمائش کا اہتمام Freer and Sackler میوزیم میں کیا گیا ہے، جو آج ہفتہ 22 اکتوبر کو شروع ہو کر قریب چار ماہ تک جاری رہے گی اور 20 فروری 2017ء کو اپنے اختتام کو پہنچے گی۔

یہ نمائش واشنگٹن کے اسی عجائب گھر میں منعقد کی جا رہی ہے، جہاں اسمتھ سونیئن انسٹیٹیوشن کا ایشیائی فنون لطیفہ کے شہ پاروں کا ایک بڑا ذخیرہ بھی نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ منتظمین کے مطابق قرآنی نمونوں اور نسخوں کی اس نمائش میں مجموعی طور پر 60 سے زیادہ نوادرات رکھے گئے ہیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ یہ نمائش امریکا میں مسلمانوں کی مقدس کتاب کے بہت پرانے اور نایاب نسخوں کی اپنی نوعیت کی پہلی نمائش ہے اور اس کا مقصد دیکھنے والوں کو امریکا میں اسلام کا ایسا مثبت پہلو پیش کرنا ہے، جو وہاں ایک مذہب کے طور پر اسلام کے موجودہ عمومی تصور سے بالکل مختلف ہے۔

اس نمائش میں رکھے جانے والے نایاب قرآنی نسخوں میں ایسے نادر نمونے اور قرآنی آیات بھی شامل ہیں، جو مثال کے طور پر ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں لکھے گئے تھے اور جنہیں قرآنی خطاطی کے انتہائی عمدہ اور مثالی نمونے قرار دیا جاتا ہے۔

Universität Birmingham - Fund alter Koran-Fragmente (picture-alliance/dpa/Birmingham University)

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں محفوظ قرآن کا ساتوین صدی عیسوی میں ہاتھ سے لکھا گیا ایک نادر نسخہ

واشنگٹن کے فریئر اینڈ سیکلر میوزیم میں اس منفرد اسلامی نمائش کو ’آرٹ آف قرآن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بارے میں اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ان شاندار مقدس اسلامی نوادرات میں سے کئی قرآنی نمونے ایسے بھی ہیں، جو مسلم دنیا کی تاریخ کے چند انتہائی طاقت ور حکمرانوں نے ماہر خطاطوں سے لکھوا کر تیار کروائے تھے۔

اس نمائش میں رکھنے جانے والے جن 63 قرآنی نوادرات کو ہر طرح کے مہمان کئی ماہ تک دیکھ سکیں گے، ان میں سے 47 نوادرات اس مقصد کے لیے صرف ایک جگہ سے مستعار لیے گئے ہیں۔

یہ واحد ذریعہ ترکی کے شہر استنبول کا ترک اور اسلامی فنون کا عجائب گھر ہے۔ باقی ماندہ قرآنی نوادرات وہ ہیں، جو پہلے ہی سے واشنگٹن کے اسمتھ سونیئن انسٹیٹیوشن کے اسلامی فن پاروں کے ذخیرے کا حصہ تھے۔

ان تمام نوادرات کو دانستہ طور پر فریئر اینڈ سیکلر میوزیم کے کافی بڑے لیکن ایک ہی کمرے میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جہاں کسی بھی مہمان کو ان تاریخی نمونوں کو دیکھنے سے یہ پتہ چل سکے گا کہ ساتویں صدی عیسوی سے شروع ہونے والا قرآنی آیات اور تعلیمات کو تحریری سطح پر محفوظ کرنے کا عمل کن کن مراحل سے گزر کر اپنی تکمیل تک پہنچا۔

Kalenderblatt 17.02.08 Türkischer Koran in arabischer Sprache, um 1855 (picture-alliance / KPA/HIP/ArtMedia)

اس نمائش کے نائب منتظم سائمن رَیٹنگ نے اے ایف پی کو بتایا، ’’بنیادی طور پر ہمارا ادارہ ایک آرٹ میوزیم ہے۔ اس نمائش میں مسلمانوں کی مقدس کتاب پر اس کی مختلف مجلد اور غیر مجلد شکلوں اور فن خطاطی کی مختلف قسموں کے حوالے سے روشنی ڈالی جائے گی۔‘‘

اس نمائش کی مہتمم اعلیٰ معصومہ فرہاد نے بتایا، ’’ہم اس نمائش کے ذریعے ان قرآنی نسخوں اور نوادرات کو ان کے پورے تنوع کے ساتھ مہمانوں کو دکھانا چاہتے ہیں۔ اس نمائش میں جو نایاب نسخے شامل کیے گئے ہیں، وہ عراق اور افغانستان سے لے کر ترکی تک پھیلے ہوئے مسلم دنیا کے کئی مختلف حصوں سے یہاں تک پہنچے ہیں۔‘‘

DW.COM