1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی طیارے پر ناکام حملہ، لیکن ہوا کیسے؟

امریکی طیارے پر حالیہ ناکام حملے کے بعد وہاں ایئر پورٹس پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پہلے سے کئے گئے حفاظتی انتظامات کے باوجود یہ نوجوان طیارے میں کیسے پہنچا۔

default

حال ہی میں ایمسٹرڈیم سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والا ایک مسافر بردار طیارہ ایک دہشت پسندانہ حملے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا۔ نائیجیریا کا ایک تیئیس سالہ نوجوان اپنی ٹانگ سے بندھے دھماکہ خیز مواد کی مدد سے طیارے کو فضا ہی میں تباہ کرنا چاہتا تھا لیکن مسافروں کی خوش قسمتی کہ یہ کوشش ناکام رہی۔

ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ جانے والی ڈَیلٹا نارتھ وَیسٹ ایئر لائنز کی پرواز نمبر دو سو تریپن کے ساتھ پیش آنے والے تازہ واقعے نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ سلامتی، سیکیورٹی اور حفاظتی اقدامات محض ایک واہمہ ہیں اور دہشت گردوں اور القاعدہ کے خود ساختہ ارکان سے مکمل بچاؤ اور حفاظت کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ نائیجیریا کا انجینئرنگ کا تیئیس سالہ طالبعلم انتہائی خطرناک دھماکہ خیز مواد کے ساتھ پہلے تو آرام سے نائیجیریا کے شہر لاگوس سے کے ایل ایم کی ایک پرواز کے ساتھ ایمسٹرڈیم پہنچ گیا۔ براعظم افریقہ کے ہوائی اڈوں پر سلامتی کے اقدامات کے دوران برتی جانے والی عمومی غفلت کے پیشِ نظر یہ بات کسی حد تک قابلِ فہم کہی جا سکتی ہے۔ تاہم یورپی اور امریکی فضائی کمپنیاں یہ بات جانتی ہیں اور اِسی لئے افریقی ایئر پورٹس پر جہاز کو جانے والے راستوں پر اضافی عملے کے

Terror Detroit Flughafen

مبینہ دہشت گرد اس ہسپتال میں زیرعلاج ہے

ذریعے چیکنگ کرواتی ہیں۔ تازہ واقعے سے البتہ یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ اضافی چیکنگ بھی سود مند ثابت نہیں ہوئی۔ صرف افریقہ ہی میں نہیں بلکہ یورپی سرزمین پر بھی۔ فاروق مطلب کو آرام سے ایمسٹرڈیم میں طیارہ تبدیل کرنے اور ڈیلٹا ایئر لائنز کے طیارے میں سوار ہو کر ڈیٹرائٹ کے لئے پرواز کر جانے سے کوئی نہ روک سکا۔

غالباً نائن الیون کے واقعے کے بعد خفیہ اداروں اور سلامتی کے محکموں کے کمپیوٹرز ابھی تک ایک دوسرے سے پوری طرح سے منسلک نہیں ہو پائے۔ ا یسا ہوتا تو ہالینڈ کے امیگریشن حکام کے کمپیوٹرزاُنہیں فورا ً خبردار کرتے۔ سلامتی کے امریکی اداروں کے کاغذات میں نائیجیریا کے اِس طالبعلم کا نام ممکنہ دہشت گرد کے طور پر درج تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اُس کا نام اُس مشہور بلیک لِسٹ میں نہیں تھا، جس میں شامل افراد پر امریکی فضائی کمپنیوں کے ذریعے سفر پر پابندی عائد ہے۔

اِس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سلامتی کے لئے کام کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام نہیں کر رہے۔ اِس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے جوتوں، جیبوں اور لیپ ٹاپس کی چیکنگ پاؤڈر اور مائع کی شکل میں موجود دھماکہ خیز مواد کا پتہ چلانے میں کم ہی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تاہم ہر مسافر کی ایسی مکمل چیکنگ، جس میں جسم کے ساتھ باندھ کر لے جائے جانے والے مادوں کا بھی پتہ چلایا جا سکے، کسی بھی بین الاقوامی اڈے پر آمدو رفت کو مفلوج بنا کر رکھ دے گی۔ ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام مسافروں کی بجائے محض مخصوص ممالک اور مخصوص کوائف کے حامل چند گنے چُنے مسافروں ہی کی مکمل تلاشی لی جائے۔ تاہم ایسے اقدام کے لئے سیاسی عزم و حوصلے کی ضرورت ہے، جو نہ تو امریکہ کے پاس ہے اور نہ ہی یورپ کے پاس۔ ایسے میں ایئر پورٹس پر حفاظت کے جتنے بھی ممکنہ اقدامات کر لئے جائیں، وہ مکمل حفاظت اور سلامتی کی فراہمی کی ضمانت نہیں دے سکیں گے۔

رپورٹ: امجد علی/رالف زِینا

ادارت: افسر اعوان

DW.COM