1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے اعلیٰ وفد کا دورہء ایران

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد عنقریب ایران کا دورہ کرے گا، جس دوران مختلف ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ بوئنگ کے ممکنہ کاروباری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بات ایرانی حکام نے تہران میں بتائی۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے جمعہ آٹھ اپریل کو رات گئے اپنی رپورٹوں میں کہا کہ بوئنگ کے ماہرین اور اعلیٰ عہدیداروں کے وفد کے اس دورے کے دوران ایران کی قومی ایئر لائن ایران ایئر اور دیگر مقامی فضائی کمپنیوں کے نمائندے اس وفد سے مذاکرات کریں گے۔

قبل ازیں گزشتہ ماہ مارچ میں ایران میں شہری ہوا بازی کی ملکی تنظیم کے سربراہ علی عابد زادہ نے کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر بوئنگ کے ساتھ اس کے تیار کردہ ہوائی جہازوں کی خریداری کا ایک معاہدہ طے کرنے والا ہے۔

اس کے برعکس امریکی شہر شکاگو میں قائم طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کی طرف سے ایک سے زائد مرتبہ یہ کہا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران ایران کو طیارے بیچنے کا کوئی معاہدہ طے نہیں پائے گا بلکہ اس دوران تہران میں حکام کے ساتھ بات چیت میں صرف ’ایرانی فضائی بیڑے کی منصوبہ بندی سے متعلق امکانات‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایران کی سرکاری ایئر لائن ایران ایئر تہران کے خلاف بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد سے یورپی طیارہ ساز کنسورشیم ایئربس کے ساتھ پہلے ہی 118 مسافر بردار طیاروں کی خریداری کے معاہدے کر چکی ہے۔

Iran Airbus 340

ایران ایئربس کے ساتھ قریب ایک سو بیس مسافر طیاروں کی خریداری کے معاہدے کر چکا ہے

اس کے علاوہ ایران ایئر فرانسیسی اطالوی طیارہ ساز کمپنی اے ٹی آر (ATR) کے ساتھ بھی مختلف کاروباری معاہدے کر چکی ہے، جن کے مطابق یہ یورپی ادارہ ایران کی قومی فضائی کمپنی کو 20 سے زائد مسافر بردار طیارے فروخت کرے گا۔

بوئنگ کے وفد کے اس آئندہ دورہء ایران کے بارے میں اپنے کسی تازہ موقف میں خود اس امریکی کمپنی کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا۔

DW.COM