1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی طرز زندگی کی تقلید ’تباہی’ ہے، بھارتی وزیر

بھارت کے وزیر ماحولیات جئے رام رمیش نے امریکی طرز زندگی کی تقلید کرنے والے امراء کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کا ترقیاتی ماڈل بھارتی معاشرے کے لئے ’تباہی‘ کا باعث بن سکتا ہے۔

default

بھارت کے وزیر ماحولیات جئے رام رمیش

جئے رام رمیش نے برطانوی اخبار ’گارجیئن‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا، ’آپ امریکیوں کو الزام نہیں دے سکتے۔ ان کا طرز زندگی اب دنیا بھر میں اپنایا جا چکا ہے۔‘

بھارتی وزیر ماحولیات نے یہ انٹرویو میکسیکو کے شہر کنکون میں ہونے والے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کے لئے روانگی سے قبل دیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر ہم اس ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں تو بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دُنیا کے لئے یہ تباہی کا نسخہ ثابت ہو گا۔‘

انہوں نے کہا کہ بھارت میں متعدد لوگ ملک کو ترقی کرتے ہوئے تو دیکھنا چاہتے ہیں، مگر وہ اس ترقی کی قیمت مستقبل میں ادا کرنے کے متمنی ہیں۔ رمیش نے کہا کہ ایسے لوگ اس مقصد کے لئے مغربی یہاں تک کہ چینی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔

جئے رام رمیش بھارت میں حکمران جماعت کانگریس کے رکن ہیں۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ خود کو تحفظ ماحول کے لئے مہم چلانے والے کےطور پر منوا چکے ہیں۔ انہوں نے اس بناء پر کچھ بڑے منصوبوں پر کام رکوایا کہ ان کے لئے پہلے تحفظ ماحول کے ضوابط پر عمل کیا جائے۔ یوں وہ سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے کابینہ میں بھی ان کے لئے مخالفت پائی جاتی ہے جبکہ ملک کے صعنت کار انہیں اپنے لئے ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔

قبل ازیں رواں ماہ انہوں نے ایک بیان میں حکومت کی جانب سے رعایتی نرخوں پر دستیاب ڈیزل سے چلنے والی سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) کا استعمال ’مجرمانہ’ قرار دیا تھا۔

Mexiko Stadt

کنکون کانفرنس میکسیکو میں رواں ماہ شروع ہو گی

جئے رام رمیشں میکسیکو میں کنکون ماحولیاتی اجلاس کے ایک سیشن کی صدارت بھی کریں گے۔ یہ اجلاس 29 نومبر سے 10دسمبر تک جاری رہے گا۔

رمیش نے کہا کہ انہیں بھارت کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کنکون کے ماحولیاتی اجلاس کا تعلق ماحول سے نہیں بلکہ سیاست سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس اجلاس کے موقع پر تحفظ ماحول کے حوالے سے کسی ٹھوس پیش رفت کی توقع نہیں ہے، لیکن یہ اجلاس کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM