1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدر یوکرائن میں

بحر اوقیانوس کے اتحادی ملکوں کا سربراہ اجلاس اور اس میںوسعت کے حوالے سے امریکی نکتہ نگاہ کو روس، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔

امریکہ کے صدر جورج ڈبلیو بش

امریکہ کے صدر جورج ڈبلیو بش


امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش بحر اوقیانوس کے اتحادی ملکوں کی تنظیمNATOکے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیئے روانہ ہیں۔اِس دوران وہ یوکرائن کے دورے پر دارالحکومت Kievپہنچے۔

اُن کی آمد پر وہاں عدالت نے ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن اس کے باوجودہیں چند ہزارافراد یو کرائن کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت میں مظاہرے میں شریک ہوئے یوکرائن پہنچ کر اپنے میزبان ملک کے بارے میں امریکی صدر کا کہنا تھا:

آپ کی خود مختار قوم امریکہ کی مضبوط حلیف ہے۔ ہمارے تعلقات کی بنیاد آزادی ہے کیونکہ آزادی اللہ کا تحفہ ہے ہر بچے، مرد، اورعورت کے لیئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر میںجمہوریتیں حقیقت میں امن اور سکیورٹی کی بہترین رفیق ہوتی ہیں۔ یوکرائن واحدNATO سے باہر کا ملک ہے جو ہرNATO مشن کی حمایت کرتا ہے۔


NATO میں روس سے آزادی پانےوالی دو ریاستیں جورجیا اور یوکرائن شمولیت کی متمنی ہیں اور اِن کی حمایت میں امریکہ پیش پیش ہے ۔ اور اس کا آئینہ دار امریکی صدر بُش کے تازہ بیانات ہیں۔اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں سالانہ سربراہ اجلاس کے دوران صدر بُش مزید وضاحت کریں گے۔

یوکرائن اورجورجیا کیNATO میں شمولیت کی مناسبت سے وہ کہتے ہیں:

میں اس حوالے سے امریکی موقف کی وضاحت کرتا رہوں گا کہ ہم ممبر ایکشن پروگرام ،یوکرائن اورجورجیا کے تناظر میں حمایت کرتے ہیں ۔ تا کہ یو کرائن کیNATO میں رکنیت کی راہ ہموار ہو سکے جو ہر ممبر ملک کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا بھر کے لیئے سکیورٹی اور آزادی کے مفاد میں ہے۔
امریکی صدر کی خواہش اپنی جگہ مگر NATO میںوسعت کی مخالفت میں روس پیش پیش ہے اور وہ اِس تنظیم کی مشرق کی سمت توسیع کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہا۔روسی نائب وزیر خارجہ نے ایوان زیریں میں کہا کہ یہ یورپی سلامتی کے حق میں نہیں اور اِس سے بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

یوکرائن اِس روسی نکتہ نظر کو درست نہیں سمجھتا اور اِس مناسبت سے کہنا ہے کہ وہروس اور یورپ کے درمیان بفر ریاست کا کردار ادا کرے گا۔ فرانس بھی روی موقف کی تائید میں ہے اور ایسا ہی جرمنی کا خیال ہے۔فرانسیسی وزیر اعظم کا خیال ہے کہ NATO میں وسعت سے یورپ کے اندر اور یورپ اور روس کے درمیان طاقت کے توازن کے لیئے درست نہیں ہے۔

NATO ملکوں کی سالانہ کانفرنس رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں کل سے شروع ہو رہی ہے۔اس کانفرنس کے دوران امریکی صدر اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹین سے اتوار کو ملاقات کر یں گے۔