1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدر کی تجویز قابل عمل نہیں، نیتن یاہو

امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر امریکی صدر نے مشرقی وسطی کے حوالے سے اپنے پالیسی کی وضاحت کی۔

default

برطانیہ کے قدامت پسند اخبار دی ٹائمز کے مطابق صدر اوباما نے شاید اپنے پالیسی بیان میں عالمی برادری کا موقف بیان کیا ہے۔ تاہم امریکی صدر کو یہ اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ اسرائیل40 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی اس تجویز پر عمل نہیں کرے گا۔ ایک جانب تو اس ملاقات کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر کو خبردار کیا ہے کہ ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز خام خیالی پر مبنی ہے۔’’ میرے خیال میں خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے فلسطینیوں کو چند حقائق تسیلم کرنا ہوں گے۔ اسرائیل دیرپا امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور بہت سے سمجھوتے کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم 1967ء سے پہلے والے سرحدوں کے تعین کو تسلیم نہیں کر سکتے‘‘۔

Obama und Netanjahu Treffen Washington

اوباما اور نیتن یاہو کے مابین یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے دفتر میں ہوئی

جرمنی اور دیگر ممالک کے بعد چہار فریقی گروپ برائے مشرقِ وسطیٰ نے بھی صدر باراک اوباما کے پالیسی تقریر کو مثبت قرار دیا ہے۔ اس گروپ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطی تنازعے کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعےکے حل کے لیے چار ملکوں پر مشتمل گروپ میں اقوامِ متحدہ، امریکہ، روس اور یورپی یونین شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم سے اپنی ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہرحال ان کے بیان سے جو اختلاف رائے پیدا ہوا تھا، وہ واضح ہو گیا ہے۔ اوباما کے بقول دوستوں کے مابین کبھی کبھار ایسا ہو بھی جاتا ہے۔’’ اس ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین مجوزہ امن بات چیت کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ یہ بات ضرور ہے کہ ہمارے درمیان اس حوالے سے کچھ اختلاف پائے جاتے ہیں لیکن ہمارے درمیان اتفاق ہے کہ صحیح امن اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیل کو اپنے دفاع کرنے کا حق تسلیم کیا جائے گا اور اسرائیل کی سلامتی کسی بھی امن پیش رفت کے دوران امریکہ کے لیے اہم ترین ہے‘‘۔

Obama und Netanjahu Treffen Washington Demonstranten NO FLASH

اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے سامنے نیتن ہاہو کے خلاف مظاہرہ بھی ہوا

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ناگزیر ہے کہ اسرائیلی حکومت مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کی سرحدوں کا تعین 1967ء کی جنگ سے پہلے کی بنیادوں پر کرے۔ اطالوی اخبار لا ریپبلیکا نے واشنٹگن میں ہونے والی اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقیت یہ ہے کہ نیتن یاہو اور اوباما ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ اسرائیل مشرق وسطی کے واحد جمہوریت ہے اور وہ اپنے اس تشخص کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ دوسری جانب امریکہ خطے میں جمہوریت کے لیے جاری تحریکوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اگر اس موقع پر اسرائیل اپنے رویےکو تبدیل نہیں کرے گا، تو یہودی ریاست کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عابد حسین

DW.COM