1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدر ٹرمپ کی پہلی غیر ملکی مہمان برطانوی وزیراعظم

ایک ہفتہ قبل امریکی منصب صدارت سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ آج برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ اپنا منصب سنبھالنے کے بعد ٹرمپ پہلی مرتبہ کسی غیر ملکی لیڈر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد آج پہلی مرتبہ کسی غیر ملکی رہنما سے ملیں گے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنما اس ملاقات کے دوران تجارت اور سکیورٹی جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ برطانوی خاتون لیڈر امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی شریک ہوں گی۔

 ٹریزا مے جمعرات کے دن امریکا پہنچی تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مے نے فلاڈیلفیا میں ری پبلکن قانون سازوں سے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کے مابین قریبی تعلقات اہم ہیں اور مستقبل میں بھی واشنگٹن اور لندن قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ری پبلکن اراکین کانگریس کو روسی غلبے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اُس کے اتحادیوں کو گلوبل سکیورٹی میں واضح کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Die britische Premierministerin Theresa May spricht am 26.01.2017 in Philadelphia (
Picture-Alliance/dpa/S. Rousseau
)

برطانوی وزیراعظم فلاڈیلفیا میں خطاب کرتے ہوئے

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے جمعرات ہی کو امریکا پہنچنے کے بعد امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال ریان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی یورپی یونین کو چھوڑنے کے بعد برطانیہ کو درپیش ممکنہ تجارتی معاملات کو فوری طور پر حل کرنے پر  غور کیا گیا۔ ٹریزا مے اپنے اس دورے کے دوران امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات پر کوئی ڈیل طے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ دوسری جانب سفارت کاروں کا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ ڈیل کے راستے میں کئی پیچیدگیاں حائل دکھائی دیتی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ایسے وقت میں امریکا پہنچی ہیں جب امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحدی دیوار بنانے پر تنازعہ پیدا ہے۔ امریکی صدر کے ٹوئٹ پر میکسیکو کے صدر نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ وہ اکتیس جنوری کو ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے تھے۔ امریکی صدر سرحدی دیوار کی تعمیر کے لیے میکسیکو سے سرمایہ طلب کر رہے تھے جبکہ میکسیکن صدر ایسا کرنے سے انکاری تھے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ بیس جنوری کو صدر کا منصب سنبھالنے والے امریکی صدر سے ایک ہفتے بعد ہی ملاقات کرنے پر برطانوی وزیراعظم کو اپنے ملک میں بھی تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن نے اِس فوری ملاقات کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ برطانیہ کی تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کے نمایاں سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین اور  مسلمانوں کے حوالے سے بیانات کی مذمت کر چکے ہیں۔