1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی صدر باراک اوباما کا دورہ یورپ

گزشتہ سال جب باراک اوباما نے بطور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار یورپ کا دورہ کیا تھا تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا اور اب وہ صدر منتخب ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر یورپ کا دورہ کر رہے ہیں ۔

default

امریکی صدر باراک اوباما کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یورپ کا یہ پہلا دورہ ہو گا

اس دورے کے دوران امریکی صدر باراک اوباما لندن میں جی بیس سمٹ میں شرکت کے علاوہ یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ بھی جائیں گے اور نیٹو سربراہی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔

صدارتی عہدہ سبھالتے ہی گوانتا نامو جیل کی بندش کا فیصلہ، ماحولیاتی تحفظ اور عالمی درجہ حرارت میں کمی کو روکنے کے لئے مزید اقدامات اور سابق امریکی صدر بش کے طریقہ سفارت کاری کو بدلنے سے باراک اوباما نے عالمی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی۔ بالخصوص یورپی ممالک نے اوباما کے ان تمام فیصلوں کو تہہ دل سےسراہا۔ اوباما کی کوشش ہو گی کہ عالمی سطح پربننے والا ان کا یہ تصور قائم رہے۔

Bildgalerie Obama in Berlin Auf dem Weg ins Hotel Adlon

پچھلے برس باراک اوباما کے بطور صدارتی امیدوار دورہ جرمنی کے موقع پر عوام میں زبردست جوش خروش دیکھا گیا تھا

لیکن دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس طرح اوباما نے صدارتی انتخابات سے قبل اور صدر بننے کے فوری بعد جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ ان میں تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہ سکیں گے یا نہیں۔

کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اوباما کا اصل امتحان ان کے دور صدارت کا ہنی مون یا ابتدائی دور گزرنے کے بعد شروع ہوگا۔ عالمی مالیاتی بحران کے بیچ ان کا اگلا دورہ یورپ بہت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ جی بیس سمٹ کے دوران باراک اوباما کی کوشش ہو گی کہ وہ دیگر ممالک پر نہ صرف واضح کریں گے کہ وہ ان کا موقف سننے کے لئے تیار ہیں بلکہ وہ کئی محاذوں پر اپنے اتحادیوں کی حمایت بھی چاہیں گے۔

یورپی ممالک نے اوباما انتظامیہ کی عراق جنگ سے متعلق نئی پالیسی اور گوانتا نامو جیل کی بندش کے اعلان کے علاوہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے اعلان کو بھی بہت سراہا ہے۔

دوسری طرف امریکی عوام جنہوں نے اوباما کو ایک بھاری مینڈیٹ دے کر منتخب کیا ہے وہ بھی دنیا کے ساتھ امریکہ کے بہتر تعلقات کے علاوہ امریکی معیشت میں واضح بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

Center for Strategic and International Studies سے منسلک خارجہ پالیسی کی ماہر سارہ مینڈلسن کا کہنا ہے کہ اوباما کے لئے سب سے بڑا چلینج یہ ہے کہ وہ کس طرح یورپی ممالک پر زور ڈالتےہیں کہ وہ عالمی اقتصادی بحران کے خاتمے کے لئے مزید امدادی پیکیج متعارف کرائے، کیونکہ یورپی ممالک بھی اس وقت اس بحران کی زد میں ہیں اور انہوں نے واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ وہ مزید ریاستی امدادی اقدامات کے حق میں نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق دواپریل کے روز لندن میں شروع ہونے والے جی بیس ممالک کی سمٹ کے دوران اگراس معاملے پر اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو وہ کوئی عجیب بات نہیں ہو گی۔

اس سمٹ کے دوران ہی باراک اوباما ، چینی صدر ہوجن تاؤ اور روسی صدر دیمتری میدویدف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے جو عالمی منظر نامے پر بہت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

BdT, Barack Obama in Berlin

اوباما کے دورہ یورپ کے موقع پر والہانہ استقبال کی توقع کی جارہی ہے

اسی طرح فرانس اور جرمنی کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی نیٹو سمٹ میں بھی شدید بحث کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ مغربی دفاعی اتحاد کے اس سربراہی اجلاس میں صدر اوباما متوقع طور پر افغانستان میں جاری جنگ کے لئے مزید مدد کے لئے بھی کہیں گے۔

تاہم کئی مسائل پر پالیسی اختلافات کے باوجود امریکی صدر کے دورہ یورپ پر والہانہ استقبال کی توقع کی جاسکتی ہے۔ صدر اوباما اپنے اس دورے کے دوران پراگ میں ہونے والی یورپی یونین کی سمٹ میں شرکت کے علاوہ ترکی بھی جائیں گے۔ ان کے دورہ ترکی کو مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری کے حوالے سے ایک اچھا شگون قرار دیا جا رہا ہے۔