1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدر باراک اوباما کا دورہء ایشیا مکمل

امریکی صدر اوباما اپنا دورہء ایشیا مکمل کر چکے ہیں۔ اس دورے کے آخری مرحلے میں انہوں نے جنوبی کوریا میں صدر لی مِیُونگ باک سے ملاقات کی۔ اوباما نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ چھ ملکی مذاکرات میں دوبارہ شامل ہو۔

default

اپنے دورے کے آخری روز امریکی صدر اوباما نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب لی میونگ باک سے ملاقات کے بعد شمالی کوریا کی چھ ملکی مذاکرات میں واپسی کے لئے اگلے ماہ اپنے ایک خصوصی مندوب کی پیونگ یانگ روانگی کا اعلان کیا۔

’’شمالی کوریا کے مسئلے پر ہماری حکومتیں قریبی تعاون جاری رکھیں گی۔ اس حوالے سے صدر لی اور میری سوچ میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر مشترکہ ترجیحات کو دہراتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعے کے پائیدار حل کے لئے چھ ملکی بات چیت کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہم مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ان کوششوں کے تسلسل میں امریکہ دسمبر کی آٹھ تاریخ کو اپنے خصوصی مندوب بوسورتھ کو شمالی کوریا سے براہ راست بات چیت کے لئے پیونگ یانگ بھیجے گا، تاکہ وہ شمالی کوریا کو مکالمت پر آمادہ کر سکیں۔‘‘

سیئول میں صدارتی رہائش گاہ بلو ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر کا شاندار استقبال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی دوستانہ ماحول میں ملاقات ہوئی۔ صدر اوباما نے جنوبی کوریائی صدر میونگ باک سے بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں عالمی برادری کے لئے قابل قبول ٹھوس اقدامات کرتا ہے، تو امریکہ پیونگ یانگ کو بھرپور اقتصادی امداد دے گا۔

BdT Barack Obama auf US Militärbasis Südkorea

صدر اوباما نے سیئول کے جنوب میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کا دورہ بھی کیا

’’اگر شمالی کوریا ٹھوس اقدامات کے لئے تیار ہے۔ اور اگر وہ اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے پر بھی آمادہ ہے، تو امریکہ پیونگ یانگ کو مکمل اقتصادی امداد فراہم کرے گا اور بین الاقوامی برادری میں شمالی کوریا کی شرکت کی پوری کوشش کی جائے گی۔ مواقع اور احترام دھمکیوں سے حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ شمالی کوریا کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے۔‘‘

دوسری جانب صدر اوباما کے دورہ جنوبی کوریا سے قبل کہا جا رہا تھا کہ شاید وہ جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات میں حالیہ کچھ عرصے سے دکھائی دینے والے تناؤ کو قدرے کم کر پائیں گے، تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان کچھ معاملات پر اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے ،جن پر اوباما کے اس دورے کے دوران کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ سیئول اور واشنگٹن کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی توثیق کے حوالے سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس معاہدے کی توثیق ابھی امریکی کانگریس کو کرنا ہے۔ تاہم امریکی کار ساز اداروں کو اس معاہدے پر شدید تحفظات ہیں اور اسی وجہ سے کانگریس نے اب تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دی۔

اس کے علاوہ افغانستان میں جنوبی کوریائی دستوں کی تعیناتی کے حوالے سے سے بھی امریکہ سیئول کو رضامند کرنے میں ناکام رہا۔ جنوبی کوریا میں عوام کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ کی جنگوں سے جنوبی کوریا کو دور ہی رہنا چاہئے۔ جنوبی کوریائی صدر نے بڑے واضح انداز میں کہا: ’’یقینی طور پر ہم افغانستان میں ترقی اور جمہوریت کے خواہشمند ہیں۔ مگر افغانستان میں تعمیر نو اور بحالی کے کام کی نگرانی امریکی فوج کر رہی ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ جنوبی کوریائی دستے اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘‘

صدر اوباما نے واپس امریکہ روانگی سے قبل سیئول کے جنوب میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کا دورہ بھی کیا۔ اس فوجی اڈے پر 28 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اوباما نے کہا کہ جنوبی کوریا میں امریکی فوجی دستوں کی موجودگی خطے میں امن کی ضامن ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM