1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدر آئندہ برس پاکستان جائیں گے

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تین روزہ سٹریٹیجک مذاکرات بدھ سے واشنگٹن میں شروع ہو گئے ہیں، جس میں شریک پاکستانی وفد نے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس موقع پر اوباما نے دورہ پاکستان کا عندیہ بھی دیا ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

پاکستانی وفد میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی شامل ہے۔ یہ سٹریٹیجک مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاملات پر بات چیت کے سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو اس نہج تک مزید بہتر بنانا ہے، جس میں صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پہلو ہی شامل نہ ہو۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی

ان مذاکرات میں پانی سے لے کر توانائی کے مسائل سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقے پر انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیاں اس گفتگو کا اہم موضوع بتایا جا تا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے سٹریٹیجک مفادات میں وسیع تر اختلافات پائے جاتے ہے، جن کے باعث سلامتی کے امور پر کسی خاص پیش رفت کی امید نہیں۔

پاکستانی وفد سے ملاقات میں باراک اوباما نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ بھارت کے دورے کے موقع پر پاکستان نہیں جائیں گے۔تاہم انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ برس پاکستان کا دورہ ضرور کریں گے۔ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب آصف زرداری کو وائٹ ہاؤس مدعو کرنے کا عندیہ بھی دیا، لیکن اس حوالے سے کسی مخصوص تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ اوباما کے دورہ پاکستان کو سیاسی نزاکتوں اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھا جا سکتا تھا۔ ساتھ ہی اس کو بھارت کے دورے سے توجہ ہٹانے کے پہلو کے طور پر لیا جا سکتا تھا۔

Pakistan Hillary Rodham Clinton Shah Mehmood Qureshi

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی امریکی منصب ہلیری کلنٹن کے ساتھ

پاکستانی وفد سے بات چیت میں امریکی صدر نے کہا کہ ’احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی حقیقی پارٹنر شپ’ کے لئے باہمی تعلقات کا فروغ ضروری ہے۔

قبل ازیں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے واشنگٹن میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی۔ نیٹو ہیلی کاپٹروں کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی حالیہ خلاف ورزی اور ان کی کارروائی کے دوران پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے تناظر میں اس ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے ترجمان جیف موریل کا کہنا ہے کہ فوجی کمانڈروں کے مابین تعاون پہلے ہی بہتر ہو چکا ہے، لیکن اس واقعے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس