1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدارتی مہم: عراق جنگ پس منظر میں

چند ماہ پہلے تک امریکی صدارتی انتخابات کی مہم میں عراق جنگ کو خاصی اہمیت حاصل تھی تاہم اب ملک میں مالیاتی بحران اور دیگر داخلی مسائل کے نتیجے میں یہ معاملہ بہت حد تک پس منظر میں چلا گیا ہے۔

default

رپبلکن جان میکین بیلمونٹ یونیورسٹی میں ہونے والے صدارتی مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہارکررہے ہیں اور ڈیموکریٹ سینیٹر اوبامہ غور سے سن رہے ہیں

چار نومبر کے حتمی صدارتی انتخابات سے قبل کئی ٹیلی ویژن مباحثوں میں ڈیموکریٹ سینیٹر، براک اوبامہ اور رپبلکن، جان میکین نے کئی اہم خارجی اور داخلی معاملات پر اپنا اپنا موقف پیش کیا۔

مباحثوں میں صدارتی عہدے کے امیدواروں کو ووٹروں کے مختلف سوالوں کے جواب دینا پڑے۔ امریکہ میں رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں آہستہ آہستہ عراق جنگ کے بارے میں ووٹروں کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔

سیاسی مبصرین کی رائے میں اس کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما ہیں۔ ایک تو یہ کہ امریکی عوام کی توجہ ملک کو درپیش خوفناک مالیاتی بحران اور مالیاتی منڑیوں میں مندی کی طرف جارہی ہے، دوسرا یہ کہ عراق میں تشّدد کی کارروائیوں میں مسلسل کمی واقع ہورہی، اور تیسرا یہ کہ عراق جنگ کے حوالے سے حریف صدارتی امیدواروں کے موقف میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہا۔

Irak Basra Kämpfe Polizist

ایک عراقی پولیس افسردارالحکومت بغداد کے جنوب۔ مشرق میں واقع شہر بصرہ میں قائم ایک چیک پوائنٹ پر پہرہ دیتے ہوے

کولمبیا یونیورسٹی میں سیاسی دانشور، ڈیوڈ ایپسٹائن کہتے ہیں: ’’عراق میں شہریوں کے خلاف تشّدد کی کارروائیوں میں کمی واقع ہورہی اور وہاں تعینات امریکی افواج کی ہلاکتوں میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ عراق جنگ کی خبریں اب اخبارات کے پہلے صفحوں سے غائب ہیں۔‘‘

پیو ریسرچ سینٹر کے سکاٹ کییٹر سمجھتے ہیں: ‘‘عراق جنگ امریکی ووٹروں کے لئے اب زیادہ توجہ کا مرکز نہیں رہی۔‘‘

صدارتی عہدے کے مضبوط ترین دعوے دار، سیاہ فام ڈیموکریٹ براک اوبامہ اور ان کے رپبلکن حریف جان میکین کے درمیان ہونے والے دوسرے ٹیلی ویژن مباحثے میں اوبامہ نسبتاً زیادہ پراعتماد نظر آئے تھے۔ دونوں ہی نے اقتصادی بحران، توانائی اور صحت اور سماجی تحفظ جیسے داخلی معاملات پر اپنے موقف کا اظہار کیا۔

اقتصادی بحران پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے اوبامہ نے کہا: ’’متوسط طبقے کو ریسکیو پیکج کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مڈل کلاس کے لئے ٹیکسوں میں کمی کی جائے، مکان مالکان کی مدد کی جائے۔ ہمیں وفاقی ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہو گی تا کہ وہ سڑکیں بنا سکیں، پل تعمیر کر سکیں۔ اس سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا۔‘‘

اس حوالے سے جان میکین نے کہا: ’’ ہمیں ٹیکسوں میں کسی طرح کا اضافہ نہیں کرنا ہو گا۔ میں اس حق میں نہیں ہوں کہ امیرلوگوں کو ٹیکسوں میں مراعات دی جائیں۔ میں اس خیال کا حامی ہوں کہ ٹیکسوں کو ایسے ہی رہنے دیا جائے جیسے وہ ہیں۔‘‘

دونوں امیدواروں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ امریکی عوام مالیاتی بحران سے بہت حد تک خوفزدہ ہیں، جس پر جلد قابو پایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اوبامہ کا موقف تھا کہ معاشی بحران کے حل کے لئے فیصلہ کن اقدامات اُٹھانے کا وقت آگیا ہے۔

اینرجی پالیسی کے حوالے سے اوبامہ نے کہا کہ دس سال میں غیر ملکی تیل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ جان میکین نے کہا کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرنا ہو گا تا کہ دوسروں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

خارجہ پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے میکین نے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوسوو، بوسنیا اور پہلی خلیجی جنگ میں بھرپور ساتھ دے کر جو تجربات حاصل کئے ان کی روشنی میں وہ آئیندہ بہترخارجہ پالیسیاں استوار کر سکتے ہیں جبکہ اوبامہ کو اس بارے میں کوئی تجربہ حاصل نہیں ہے۔

Präsident Bashar Assad Mahmoud Ahmadinejad

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور شامی صدر بشار الاسد، دونوں ہی، امریکی رہنماٴوں کے لئے پریشانی کا باعث بنے ہوے ہیں

ایران کے جوہری پروگرام کے تعلق سے میکین نے کہا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار کر لئے تو خطّے کے دوسرے ممالک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ اوبامہ ا کا کہنا تھا کہ امریکہ قطعاً ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دے گا۔

پاکستان کے بارے میں اوبامہ نہ سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پر زور دیں گے کہ پاکستان میں، ان کے بقول، موجود عسکریت پسندوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے حوالے سے اوبامہ نے کہا: ’’اگر وہ ہمیں نظر آ ئیگا اور پاکستانی حکومت انہیں پکڑنے کے قابل نہ ہوئی یا ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تو میرے خیال میں ہمیں خودآگے بڑھ کر انہیں گرفتار کرنا ہو گا۔ ہم بن لادن کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ ہم القائدہ کو تباہ کر دیں گے۔ اور یہ ملکی سلامتی کے اعتبار سے ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔‘‘

DW.COM