1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی صدارتی مہم امریکہ میں نہیں

ایک وقت وہ تھا کہ جب امریکی صدارتی امیدوار اس بات کا تصوّر نہیں کر سکتے تھے کہ وہ صدارتی مہم امریکہ سے باہر جا کر لڑیں ۔ مگر تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا اور عالمگیریت کے زمانے میں کوئی بھی بات نا ممکن نہیں رہی۔

default

امریکی صدارتی انتخابات کے لیے اب اکھاڑا امریکہ سے باہر لگے گا

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما اور رپبلکن پارٹی کے امیدوار جان میک کین اب امریکہ کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی صدارتی مہم چلائیں گے۔ باراک اوباما آئندہ چند ماہ میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپی ممالک کا رخ کریں گے تو جان میک کین میکسیکو اور کولمبیا جا کر مہم چلائیں گے۔ ظاہر ہے کہ بین الاقوامی زرائع ابلاغ کی بے پناہ ترقّی کے باعث ان امیدواروں کے بیرونِ ملک دوروں کو غیر معمولی کوریج ملے گی اور امریکی عوام اس بات کا تعین کر سکیں گے کہ کون سا امیدوارزیادہ بہتر امریکی صدر ثابت ہوگا۔ یعنی امریکی صدر کون ہوگا اس بات کے فیصلے میں زرائع ابلاغ ایک کلیدی کردار ادا کریں گے۔


ایران کا مسئلہ ہو ، شرقِ اوسط میں فلسطین اور اسرائیل کا دیرینہ تنازعہ ہو یا پھر عراق اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، یہ وہ مسائل ہیں جن کے حوالے سے دونوں امیدوار امریکی ووٹرز کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ وہ ان کو بہتر انداز سے حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

TV-Duell Hillary Rodham Clinton Barack Obama

باراک اوباما امریکی عوام کو قائل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خارجہ امور خوش اسلوبی سے نبھا سکتے ہیں


باراک اوباما اگست میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن سے قبل فرانس، جرمنی، برطانیہ، اردن اور اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ ان کے عراق اور افغانستان کے دورے بھی طے ہو چکے ہیں۔ ان دوروں کے زریعے سیاہ فام باراک اوباما امریکی رائے دہندگان کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ جان میک کین کے مقابلے میں وہ کم عمر ضرور ہیں مگر خارجہ امور کو بہتر انداز میں نبھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب جان میک کین اس ہفتے لاطینی امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد امریکہ میں آباد ایک بڑی اقلیتی آبادی کے ووٹرز کو متاثر کرنا ہے۔


مبصرین کی رائے ہے کہ امریکی صدارتی امیدواروں کے غیر ملکی دورے ان کے حق میں بھی جا سکتے ہیں اور ان کے خلاف بھی۔ کوئی بھی غلط بیان یا تکنیکی زبان میں پالیسی اسٹیٹمنٹ ان امیدواروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ باراک اوباما کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ زیادہ امتحانی ثابت ہوگا کیوں کہ عراق میں وہ امریکی افواج کے اعلیٰ عہدیداروں سے جب براہِ راست ملاقات کریں گے تو پھر شاید ان کو درست اندازہ ہوگا کہ عراق سے امریکی افواج واپس بلوانا اتنا سہل کام بھی نہیں ہے