1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

امریکی صدارتی انتخابات: کیا باراک اوباما جیت چکے ہیں؟

رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما کو اپنے رپبلکن حریف جان میک کین پر واضح برتری حاصل ہوچکی ہے۔ مگر کیا واقعی سیاہ فام سینیٹر اوباما امریکہ کے اگلے صدر منتخب ہوجائیں گے؟

default

فتح کے لیے پر امید، باراک اوباما

امریکی اخباروں میں ایسی رپورٹس بھی شائع ہوئیں کہ باراک اوباما نے امریکی صدر کی حیثیت سے قوم سے اپنا خطاب تیِار کرلیا ہے۔ کیا وہ اور ان کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں فتح کو یقینی سمجھ رہے ہیں؟

Barack Obama mit seiner Großmutter Madelyn Lee Payne Dunham

رائے عامہ کے جائزوں کی حد تک امریکی سفید فام آبادی باراک اوباما کے ساتھ ہے۔ مگر کیا ووٹ ڈالنے کے وقت بھی؟


زرائع ابلاغ ہوں یا رائے عامہ کے جائزے، سب کے مطابق باراک اوباما کو جان میک کین پر آٹھ سے دس فیصد برتری حاصل ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ہر کوئی شک و شبہے کا شکار بھی ہے۔ کوئی ’اوکٹوبر سرپرائز‘ کی بات کرتا ہے، تو کوئی القاعدہ کے ممکنہ حملے کی نتیجے میں باراک اوباما کے دھڑام سے گر جانے کی، تو کوئی کہتا ہے سفید فام افراد جائزوں کی حد تک تو باراک اوباما کی حمایت کر رہے ہیں مگر جب ووٹ ڈالنے کا وقت آئے گا تو وہ سیاہ فام باراک اوباما کے بجائے جان میک کین کو ہی ووٹ دیں گے۔

دوسری جانب جان میک کین بضد ہیں کہ رائے عامہ کے جائزوں میں پیچھے ہونے کے باوجود وہ چار نومبر کے صدارتی انتخابات کے فاتح ہوں گے۔

’میں ایک امریکی ہوں اور میں لڑائی جاری رکھوں گا۔ آپ امید نہ ہاریں، ثابت قدم رہیں اور لڑتے رہیں‘۔ یہ الفاظ جان میک کین نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکہے۔

آخری ہفتے میں جان میک کی جانب سے اوباما کو سوشلسٹ کہنے کے علاوہ ان کی ٹیکس پالیسیوں پر بھی نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔

John McCain bei Vowahlen am Super Tuesday in Arizona, USA

جان میک کین بضد ہیں کہ وہ صدارتی دوڑ میں پیچھے نہیں


ایک اشتہار میں کہا گیا ہے کہ اوباما امریکی عوام سے کہہ رہے ہیں کہ زیادہ ٹیکس ادا کرنا حب الوطنی ہے اور یہ کہ ہم کو دولت کو تقسیم کرنا ہوگا۔

اس حولے سے انتخابی مہم کا ایک انتہائی اہم کردار رپبلکن پارٹی کا حامی جو نامی پلمبر بن چکا ہے۔ نائب صدر کے عہدے کے لیے رپبلکن پارٹی کی امیدوار سارہ پیلن اور میک کین جو کا نام لے کر اوباما کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کررہے ہیں۔

Bildgalerie Obama in Berlin Händeschüttlen Bad in der Menge nach Rede an der Siegessäule in Berlin

راک اسٹار جیسی شہرت کے حامل باراک اوباما

مگر اتوار کے روز باراک اوباما جب کولوراڈو پہنچے تو وہاں انہوں نے ڈیڑھ لاکھ کے مجمعے سے خطاب کیا۔ ڈینور میں ایک لاکھ سے زائد افراد جمع تھے۔

مگر سوال یہی ہے کہ ایک راک اسٹار جیسی کشش اور شہرت رکھنے والے باراک اوباما کو کیا امریکی عوام چار نومبر کو اسی جوش و خروش سے ووٹ بھی دیں گے؟ اس کے لیے اب تھوڑا سا ہی انتظار کرنا ہے۔