1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی شہری کا اغوا، القاعدہ کی پلاننگ

پاکستان میں کام کرنے والے ستر سالہ امریکی شہری کے اغواء کی مناسبت سے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ ان کے قبضے میں ہے۔

default

ستر سالہ امریکی امدادی ورکر وارن وائن سٹائن (Warren Weinstein) کو تیرہ اگست کو نامعلوم مسلح افراد نے لاہور شہر سے اغواء کیا تھا۔ اس وقت سے امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں اور پولیس کے ذرائع کو یقین تھا کہ وائن سٹائن کو کسی جہادی گروپ نے اغواء کیا ہے لیکن اس کا سکیورٹی وجو ہات کی بنیاد پر کھلے عام ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

اب القاعدہ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ وارن وائن سٹائن اس کے قبضے میں ہے۔ امریکی شہری کے اغواء کے بارے بیان القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی جانب سے جاری ویڈیو پیغام میں کیا گیا ہے۔ وارن وائن سٹائن امریکی امدادی ادارے USAID سے وابستہ کنٹریکٹر ہے۔ ایمن الظواہری کے ویڈیو پیغام کی تفصیلات امریکہ کے سائٹ (SITE) انٹیلی جنس گروپ نے عام کی ہیں۔

Flash-Galerie Aiman al-Sawahiri

وارن وائن سٹائن کے اغوا کی ذمہ داری القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے آڈیو پیغام میں قبول کی گئی ہے

ایمن اظواہری نے اس امریکی شہری کی رہائی کے لیے شرائط بھی مقرر کی ہیں۔ ویڈیو پیغام میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان، پاکستان، صومالیہ اور یمن پر فضائی حملوں کے سلسلے کو بند کرے اور سن 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہونے والے بم دھماکے میں سزا پانے والے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ الظواہری نے القاعدہ کے مقتول رہنما اسامہ بن لادن کے رشتہ داروں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ جن افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں نابینا شیخ عمر عبدالرحمٰن، رمزی یوسف اور سید ناصر شامل ہیں۔

ستر سالہ امریکی شہری وارن وائن سٹائن امریکی ریاست میری لینڈ کے ٹاؤن راک وِل (Rockville) کا رہائشی ہے۔ وہ کئی سال سے پاکستان میں کام کر رہا ہے۔ اسے اردو زبان پر خاصا عبور حاصل ہے۔ اغواء کے وقت وائن سٹائن پاکستانی تاجروں اور بزنس کمیونٹی کے لیے ایڈوائزی کمپنی جے ای آسٹن ایسوسی ایٹس کا کنٹری ڈائریکٹر تھا۔ کمپنی کے مطابق مغوی وائن سٹائن کی صحت خاصی کمزور ہے اور وہ دل کا مریض بھی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس