1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی شہری شہزاد نے الزامات قبول کر لئے

ٹائمزسکوائر پر ناکام بم حملے کی سازش کے ملزم فیصل شہزاد نے اپنے اوپرعائد تمام الزمات تسلیم کر لئے ہیں۔ تیس سالہ شہزاد نے نیویارک کی ایک عدالت میں اقبال جرم کرتے ہوئے کہا:’’مسلم انتہا پسند امریکہ پرحملے جاری رکھیں گے۔‘‘

default

پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد پرکل دس الزامات عائد کئے گئے تھے۔ ان میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کی کوشش اور اقدام قتل جیسے الزامات بھی شامل تھے۔ شہزاد کے اقرار جرم کے بعد اب اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گاجبکہ اسے پانچ اکتوبر کو باضابطہ طور پرسزا سنائی جائے گی۔

یکم مئی کو ٹائمزسکوائر پر کار بم حملے کی ناکام کوشش کے دو دن بعد ہی شہزاد کو ایک ڈرامائی صورتحال میں جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ دبئی فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

Times Square Autobombe Anschlag

یکم جولائی کو تائمز سکوائر پر کیا جانے والا یہ حملہ ناکام ہو گیا تھا

مین ہٹن کی ایک عدالت کی جج مریم گولڈمین نے فیصل شہزاد سے کئی سوالات کئے تاکہ اسے اس کے حقوق کے بارے میں تفصیل کے ساتھ مطلع کیا جا سکے۔ انہوں نے فیصل کو بتایا کہ اس کے اقرار جرم کے بعد اسے عمر قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ جب شہزاد سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ تمام الزامات تسلیم کرتا ہے، تو اس نے نہ صرف اقرار کیا بلکہ کہا کہ اگر امریکی افواج عراق اور افغانستان سے واپس اپنے ملک نہیں جاتیں اور اسلامی ممالک پر ڈورن حملے بند نہیں ہوتے، تو’’مستقبل میں بھی امریکہ پر حملے ہوتے رہیں گے‘‘۔ شہزاد نے مزید کہا:’’میں سو سے بھی زیادہ مرتبہ اپنے اوپر عائد الزامات قبول کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

Times Square New York Flash-Format

ٹائمز سکوائر سیاحوں کے لئے ایک پرکشش جگہ ہے

لوگوں سے بھرے عدالتی کمرے میں شہزاد نے مزید کہا:’’سب کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میں کہاں سے آیا ہوں، میں خود کو ایک مسلمان فوجی سمجھتا ہوں۔‘‘ شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ ٹائمز سکوائر پر بم دھماکے کے لئے اس نے دانستہ طور پر ہفتہ کا دن منتخب کیا تھا کیونکہ چھٹی کے دن وہاں لوگوں کا رش زیادہ ہوتا ہے اور یہ کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک یا زخمی کرنا چاہتا تھا۔

شہزاد نے عدالت میں کہا کہ اگرچہ اس نے حملے کے لئے مالی مدد حاصل کی تھی تاہم طالبان باغیوں نے اسے نہیں بتایا کہ حملہ کہاں اور کیسے کرنا ہے۔’’میں نے رقم حاصل کی، میں نے منصونہ بندی کی اور بم تیار کیا اور اسے لے کر ٹائمز سکوائر چلا گیا۔‘‘ امریکی شہری شہزاد نے کہا کہ سب کچھ اس نے اکیلے ہی کیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM