1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی سینیٹ نے پینیٹا کو وزیر دفاع بنانے کی منظوری دے دی

امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا کو وزیر دفاع بنائے جانے کی منظوری دے دی ہے۔ وہ رابرٹ گیٹس کی جگہ لیں گے، جو اسی ماہ سبکدوش ہو رہے ہیں۔

default

لیون پینیٹا

پینیٹا کی نامزدگی کو سینیٹ کے تمام ایک سو اراکین نے منظوری دی ہے۔ وہ آئندہ ہفتے تہتر برس کے ہو جائیں گے۔ ارکان سینیٹ نے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے طور پر ان کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہی کے دَور میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا پتہ چلا کر اسے ہلاک کیا گیا۔

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین کارل لیون کا کہنا ہے: ’’آئندہ وزیر دفاع کو ہماری فورسز کے بارے میں ضرورتوں کو پورا کرنے کا کام نمٹانا ہو گا جبکہ واشنگٹن حکومت کے سامنے مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کا ہدف ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پینیٹا کا طویل تجربہ انہیں اس عہدے کے لیے جائز انتخاب ٹھہراتا ہے۔ لیون پینیٹا یکم جولائی کو رابرٹ گیٹس کی جگہ لیں گے جبکہ سی آئی اے کے سربراہ کی ذمہ داریاں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے پاس چلی جائیں گی، جو اس وقت افغانستان میں امریکی کمانڈر ہیں۔

لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی خاصی تعداد کے انخلاء کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما انخلاء سے متعلق فیصلے کا اعلان آج (بدھ کو) کرنے والے ہیں۔

NO FLASH NATO Verteidigungsminister Brüssel Belgien Treffen

رابرٹ گیٹس

امریکی فوج افغانستان میں سلامتی کی ذمہ داریاں 2014ء تک مقامی فورسز کو سونپنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ تقریباﹰ دس برس سے جاری افغان مشن کو سمیٹنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

باراک اوباما کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے فوجیوں کا انخلاء جولائی (آئندہ ماہ) سے شروع ہو گا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انخلاء کے وقت کا تعین حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ مہینوں میں افغان جنگ کے حوالے سے امریکہ میں مخالفت بڑھی ہے۔ وہاں اس کے تقریباﹰ ایک لاکھ فوجی تعینات ہیں۔ وہاں سے فوجیوں کو واپس بلانے کے لیے حمایت اس وقت اور بھی بڑھی، جب گزشتہ ماہ امریکی فورسز نے ایک خفیہ آپریشن میں پاکستان کے ایک علاقے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس